موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’پورا ملک شرمسار ہے‘، مدھیہ پردیش میں 12 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری پر راہل گاندھی چراغ پا

مدھیہ پردیش کے اجین میں 12 سالہ نابالغ بچی کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ لگاتار طول پکڑتا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے کانگریس لیڈران اس معاملے میں بی جے پی کو لگاتار تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اس تعلق سے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو ریاست میں خواتین و بچیوں پر ہو رہے مظالم کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے ’’مدھیہ پردیش میں ایک 12 سالہ بچی کے ساتھ ہوا خوفناک جرم، بھارت ماتا کے دل پر زبردست چوٹ ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم اور نابالغ بچیوں کی عصمت دری کی تعداد سب سے زیادہ مدھیہ پردیش میں ہے۔ اس کے گنہگار وہ مجرم تو ہیں ہی جنھوں نے یہ گناہ کیے، ساتھ ہی ریاست کی بی جے پی حکومت بھی ہے جو بیٹیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے پوسٹ میں مدھیہ پردیش حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’نہ انصاف ہے، نہ نظامِ قانون اور نہ حق۔ آج مدھیہ پردیش کی بیٹیوں کی حالت سے پورا ملک شرمسار ہے۔ لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے وزیر اعظم میں بالکل شرم نہیں ہے۔ انتخابی تقریر، کھوکھلے وعدوں اور جھوٹے نعروں کے درمیان بیٹیوں کی چیخیں انھوں نے دبا دی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اجین میں ایک عصمت دری متاثرہ نابالغ بچی بے بس حالت میں ملی تھی۔ پولیس کے مطابق بچی خون سے لتھ پتھ حالت میں ڈھائی گھنٹے تک سڑک پر بھٹکتی رہی، لیکن کوئی بھی اس کی مدد کرنے کے لیے آگے نہیں آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بچی اتر پردیش کی رہنے والی ہے۔ اس معاملے میں یوپی پولیس کے ساتھ رابطہ بھی کیا گیا ہے۔ اجین ایس پی سچن شرما نے اس معاملے میں ایس آئی ٹی تشکیل کر جانچ کا حکم صادر کر دیا ہے۔ پولیس نے نامعلوم ملزمین کے خلاف معاملہ درج کر جانچ شروع کر دی ہے۔