بھوپال: مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی نے مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ تک کو میدان میں اتار دیا ہے۔ بی جے پی کے اس فیصلے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے الزام لگایا کہ ایک طرف وزارت کا کام کاج متاثر ہوگا تو دوسری طرف پارلیمانی حلقہ کے لوگوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
کمل ناتھ نے ایکس پر لکھا، ’’بی جے پی جتنے زیادہ آرائشی امیدوار لا رہی ہے، اتنا ہی زیادہ عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، وجہ صاف ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ ہ جو وزیر الیکشن لڑیں گے، ان کی وزارتیں، جو پہلے ہی غیر فعال ہیں، اب مزید غیر فعال ہو جائے گی تو عوام کے زیر التواء کام کیسے ہوں گے؟ یہی وجہ ہے کہ عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’حکمران ایم پیز جو الیکشن لڑیں گے وہ اپنے پارلیمانی حلقے کو نظر انداز کریں گے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ناراضگی بڑھ رہی ہے، یہ نام نہاد بڑے لوگ پارٹی دباؤ کے تحت ہچکچاتے ہوئے الیکشن لڑیں گے اور اگر وہ ہار گئے تو وہ عوام کے خلاف ہو جائیں گے۔ جس کی وجہ سے عوام ان کی نظر اندازی اور ان کے جبر کا شکار ہو جائے گی۔‘‘
کمل ناتھ نے مزید کہا، ’’اگر بی جے پی کے ایک یا دو ایم پیز جبر، جگت، جگاڑ سے الیکشن جیت جاتے ہیں، تو بعد میں وہ ایم ایل اے کے عہدے سے استعفیٰ دے کر آئندہ لوک سبھا الیکشن لڑیں گے، جس کی وجہ سے ضمنی الیکشن پر اخراجات ہوں گے، جس کا بوجھ عوام اٹھائے گی۔ عوام کے ٹیکس کی ہی بربادی ہوگی۔‘‘
کمل ناتھ نے کہا کہ بڑھتے ہوئے عوامی غصے کو دیکھ کر بی جے پی کے زیادہ تر لیڈران، عہدیداران، کارکنان، ارکان اور حامی زیر زمین چلے گئے ہیں اور عوامی خدمت کے لیے وقف کچھ اچھے لیڈر دوسرے آپشنز کی تلاش میں ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی تنظیم کے سب سے بڑے انحطاط کا دور ہے۔‘‘

