موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

گونگی-بہری وکیل کو سپریم کورٹ نے ’ورچوئل بحث‘ کا دیا موقع!

آج چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی عدالت میں اس وقت سناٹا چھا گیا جب ایک گونگی-بہری خاتون وکیل پیش ہوئیں۔ اس گونگی اور بہری خاتون وکیل کے اشاروں کو سمجھانے کے لیے ان کی آواز سوربھ رائے چودھری بنے۔ یہ پہلا موقع تھا جب ورچوئل ذریعہ سے خاتون وکیل سارہ سنی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور خاص طور پر چیف جسٹس چندرچوڑ نے انھیں بحث کرنے کی اجازت دی۔ اس دوران وکیل سوربھ رائے چودھری نے وکیل سارہ کی اشاروں والی زبان کو دیکھ کر سمجھا اور پھر سی جے آئی کی بنچ کے سامنے ان کی دلیلوں کو پیش کیا۔

بنگلورو کی رہنے والی سارہ کو ورچوئل ذریعہ سے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دینے سے سپریم کورٹ کے ڈیجیٹل کنٹرول روم نے منع کر دیا تھا۔ حالانکہ بعد میں جب اس بارے میں سی جے آئی چندرچوڑ کو جانکاری ملی تو انھوں نے اشارہ سمجھنے کے لیے ایڈووکیٹ چودھری کے ساتھ ورچوئل پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ جب بحث شروع ہوئی تو اسکرین پر ایڈووکیٹ چودھری خاتون وکیل کے ہاتھوں سے کیے جا رہے اشاروں کی زبان عدالت کے سامنے رکھنے لگے۔

پہلے ڈیسک ٹاپ اسکرین پر سارہ نہیں تھیں اور بعد میں سی جے آئی نے انھیں اسکرین پر جگہ دینے کو کہا، تب ایڈووکیٹ چودھری اور سارہ دونوں ہی اسکرین پر نظر آئے۔ اس دوران عدالت میں کئی مواقع پر وکیل چودھری نے ایک ہی دلیل کو دہراتے ہوئے عدالت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آخر سارہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں سی جے آئی کی بنچ کے سامنے ایڈووکیٹ سارہ کے پیش ہو کر بحث کرنے کے معاملے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سنچیتا این نے اہم کردار نبھایا۔ انھوں نے گونگی-بہری وکیل کے پیش ہونے کی اجازت دلانے کے لیے مختلف سطحوں پر تعاون کیا۔ یہ سماعت تب ہوئی جب بنچ کے سامنے اہم معاملوں کی سماعت ہو چکی تھی۔