موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کانگریس کی حکومت بنتے ہی خواتین ریزرویشن بل کو فوراً نافذ کیا جائے گا: راہل گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل کو فوری طور پر نافذ کرنے کے اپنے مطالبہ کا اعادہ کیا۔ گزشتہ روز راجستھان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت مردم شماری اور حدبندی کا بہانہ بنا رہی ہے جبکہ حقیقتاً خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فور طور پر بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

راہل گاندھی نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب ناری شکتی وندن ایکٹ پاس ہو چکا ہے تو خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ کانگریس اس ریزرویشن سسٹم کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن مرکزی حکومت مردم شماری اور حد بندی کے بہانے بنانے میں مصروف ہے۔ اگر کانگریس اتحاد اقتدار میں آتا ہے تو ہماری حکومت فوری طور پر خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرے گی۔‘‘

دریں اثنا، راہل گاندھی نے ایک بار پھر اڈانی اور مودی حکومت کے درمیان تعلقات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑی صنعتیں اڈانی کو دے دی گئی ہیں۔ ملک کے عوام مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن مرکزی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کا بدھوڑی کا بیان ہو یا انڈیا بمقابلہ بھارت کا مسئلہ، یہ تمام بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے حوالہ سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور میڈیا اپوزیشن کے پیغام کو صحیح طریقے سے لوگوں تک نہیں پہنچنے دیتے۔ ایسے میں انہوں نے لوگوں تک پہنچنے کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا سہارا لیا۔ حکومت نے اس میں بھی کئی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں سے براہ راست ملنا بہتر ہے۔