موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بی جے پی کی تنازعہ پیدا کر کے ذات پر مبنی مردم شماری سے توجہ ہٹانے کی کوشش: راہل گاندھی

نئی دہلی: راہل گاندھی نے اتوار کو بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ارکان پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی اور نشی کانت دوبے کے ذریعے تنازعہ پیدا کر کے ذات پر مبنی مردم شماری کے خیال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

راہل گاندھی نے یہاں ایک کانفرنس میں کہا ’’بی جے پی توجہ ہٹا کر الیکشن جیتتی ہے۔ کانگریس غالباً تلنگانہ جیت رہی ہے۔ ہماری پارٹی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں یقینی طور پر جیت رہی ہے اور ہم راجستھان میں بہت قریب ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم وہاں بھی جیتنے میں کامیاب ہوں گے۔ بی جے پی بھی اندرونی طور پر یہی کہہ رہی ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے پرتی دنن میڈیا نیٹورک کے ذریعہ منعقدہ ‘دی کانکلیو 2023’ میں کہا ’’ہم نے کرناٹک میں ایک بہت اہم سبق سیکھا اور وہ یہ تھا کہ بی جے پی توجہ ہٹا کر اور ہمیں اپنا بیانیہ رکھنے کی اجازت نہ دے کر انتخابات جیتتی ہے۔ اس لیے ہم نے کرناٹک میں جو کیا، ہم نے اس طرح الیکشن لڑا کہ بی جے پی اپنا بیانیہ نہیں چلا سکی۔ آج آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، بدھوڑی اور پھر اچانک یہ نشی کانت دوبے، یہ سب ذات پر مبنی مردم شماری کے خیال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا ’’وہ جانتے ہیں کہ ذات پات کی مردم شماری ایک بنیادی چیز ہے جسے ہندوستان کے لوگ چاہتے ہیں اور وہ اس پر بحث نہیں کرنا چاہتے۔ اس لیے جب بھی وہ ہماری توجہ ہٹانے کے لیے کوئی مسئلہ میز پر لاتے ہیں، ہم نے اس سے نمٹنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا، "ہم نے سیکھا ہے کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔ کرناٹک میں ہم نے ایک واضح وژن دیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بی جے پی کیا کرنے کی کوشش کرتی ہے، اب ہمارا بیانیہ پر کنٹرول ہے۔‘‘

خیال رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں بی جے پی کے رکن پارلیمان رمیش بدھوڑی نے ایوان میں بہوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے لیے توہین آمیز الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال کیا، جس کے سبب تنازعہ کھڑا ہو گیا۔

راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بی ایس پی لیڈر سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ راہل نے کہا کہ کانگریس ان ریاستوں میں بیانیہ کو کنٹرول کر رہی ہے جہاں اس سال کے آخر میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران اسے کنٹرول کرنے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے لیکن ایسا نہیں کر سکا۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور میزورم میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔