موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وزیر اعظم مودی خواتین ریزرویشن کے معاملے میں سنجیدہ نہیں : للن سنگھ

جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خواتین ریزرویشن کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں اور اس سلسلے میں بل کو پاس کرانے کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس صرف ایک ایونٹ مینجمنٹ تھا۔

اتوار کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن وزیرعظم مودی کی ایک اور سیاسی نوٹنکی ہونے کی وجہ سے وہ اس معاملے پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ریزرویشن دینے میں سنجیدہ ہوتے تو وہ بہت پہلے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل لاچکے ہوتے اور اس کے لیے سال 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ساڑھے نو سال تک انتظار نہیں کرتے ۔

جے ڈی یو کے قومی صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منظور شدہ بل کی دفعات کے مطابق اگلی مردم شماری اور حد بندی کمیشن کی رپورٹ کے بعد ہی خواتین کو ریزرویشن دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیگر پسماندہ طبقے (او بی سی) خواتین کو ریزرویشن دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انہیں ریزرویشن دینے کے خلاف ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ ذات کی مردم شماری قومی سطح پر کرائی جانی چاہئے اور ان کی پارٹی کی طرف سے کئے گئے مطالبہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات کی مردم شماری کی فوری ضرورت ہے جو ملک کی ذات پر مبنی آبادی کا تعین کرے گی اور ضرورت مندوں کو ریزرویشن دینے میں بھی مدد کرے گی۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ بی جے پی اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے ختم ہونے کے خوف سے ہمیشہ کی مردم شماری کے خلاف رہی ہے۔