موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اچھوت ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی سنگ بنیاد تقریب میں سابق صدر کووند کو نہیں بلایا گیا تھا: کھڑگے

راجستھان میں رواں سال اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں راجستھان میں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سمیت کئی لیڈران آج راجستھان پہنچے۔ اس دوران کھڑگے نے جئے پور میں کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

کانگریس صدر نے اپنی تقریر کے دوران نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کے لیے اس وقت کے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو مدعو نہیں کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کے لیے اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند کو مدعو نہیں کیا گیا تھا کیونکہ وہ اچھوت ہیں۔‘‘

کھڑگے نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’ہم صرف بی جے پی سے نہیں لڑ رہے ہیں۔ انتخاب میں بی جے پی ہمارے خلاف 4 امیدوار اتارتی ہے۔ ایک ان کا اپنا امیدوار، دوسرا ای ڈی کا امیدوار، تیسرا سی بی آئی کا امیدوار، چوتھا انکم ٹیکس کا امیدوار۔ ہمیں ان سب کو شکست دے کر جیتنا ہے، کیونکہ وہ جب چاہیں تب ای ڈی لگا دیں گے، سی بی آئی لگا دیں گے، جب بھی ہمارے سمیلن ہوتے ہیں، اس کے دوسرے دن یا اسی دن چھاپہ ماری ہو جاتی ہے۔‘‘

پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’یہ ملک کو بنانے کا وقت ہے، جمہوریت کو بچانے کا وقت ہے، آئین کو بچانے کا وقت ہے… اس لیے ہم سب کو اٹھنا ہے۔ یہ لڑائی کسی ایک کی نہیں ہے۔ مودی حکومت کے خلاف یہ لڑائی 140 کروڑ لوگوں کے حقوق کو محفوظ کرنے کی لڑائی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا بحث کرنے کی جگہ ہیں، وہ جگہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ہیں… وہ نمائش کرنے کی جگہ نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کہتی ہے ہم جمہوری ہیں، لیکن کیا یہ جمہوریت ہے؟