لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف نازیبا اور غیر آئینی تبصرہ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے اپنی ہی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے، اور دوسری طرف دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 21 ستمبر کو لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی پر جاری بحث کے دوران رمیش بدھوڑی نے اپنے ساتھی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف بے حد شرمناک اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے لگاتار بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس درمیان بی جے پی نے بدھوڑی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا ہے اور 15 دن کے اندر اس کا جواب مانگا ہے۔ پارٹی نے پوچھا ہے کہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے لیے کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے؟
دوسری طرف دانش علی نے جمعرات کو لوک سبھا میں ہوئے واقعہ پر خفگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے میرے ساتھ انصاف ہوگا اور اسپیکر صاحب کارروائی کریں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو میں بھرے دل سے اس ایوان کو چھوڑنے پر غور کروں گا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اگر پارلیمنٹ میں میرے حقوق کی حفاظت نہیں ہو سکتی ہے تو میں کس کے پاس جاؤں۔ رمیش بدھوڑی نے مجھے باہر دیکھ لینے کی دھمکی دی ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘
دانش علی کا کہنا ہے کہ ’’میں نے لوک سبھا اسپیکر کے دفتر کو خط لکھا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اس واقعہ پر نوٹس لیں گے اور مناسب کارروائی کریں گے۔‘‘ بی ایس پی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سبھی باتیں ریکارڈ میں ہیں، پارلیمنٹ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی منتخب رکن کے لیے اس طرح کی زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔

