موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لوک سبھا انتخاب سے ٹھیک پہلے جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کا اعلان

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کی پارٹی جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر) نے آج باضابطہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی لوک سبھا انتخاب سے قبل جے ڈی ایس ایک بار پھر این ڈی اے کا حصہ بن گئی ہے۔ کماراسوامی کی آج دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے دونوں پارٹیوں میں اتحاد کا اعلان کیا۔

بی جے پی صدر نڈا نے جے ڈی ایس کا این ڈی اے میں استقبال کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ این ڈی اے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’نیو انڈیا، اسٹرانگ انڈیا‘ کے نظریہ کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس سے قبل کرناتک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے نئی دہلی میں بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ تینوں لیڈروں کی اس ملاقات میں اتحاد کو لے کر اتفاق قائم ہوا اور اس کے بعد باضابطہ طور پر اتحاد کا اعلان جے پی نڈا کے ذریعہ کیا گیا۔ کماراسوامی کی نڈا اور شاہ سے ملاقات کے دوران گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت بھی موجود رہے۔

جے پی نڈا نے آج ہوئی اس ملاقات کی تصویریں ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہمارے سینئر لیڈر اور وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی سے ملاقات کی۔ مجھے خوشی ہے کہ جے ڈی ایس نے این ڈی اے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم این ڈی اے میں ان کا تہہ دل سے استقبال کرتے ہیں۔ یہ این ڈی اے اور پی ایم مودی کے ’نیو انڈیا، اسٹرانگ انڈیا‘ کے نظریہ کو مزید مضبوط کرے گا۔‘‘

اس اتحاد کے بعد صاف ہو گیا ہے کہ 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی اور جے ڈی ایس مل کر کانگریس کے خلاف امیدوار اتارے گی۔ دراصل کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی زبردست جیت اور بی جے پی-جے ڈی ایس کی شرمناک ہار کے بعد سے ہی دونوں میں اتحاد کی خبریں زور پکڑ رہی تھیں۔ بی جے پی لیڈر یدی یورپا لگاتار اس کے لیے کوششیں کر رہے تھے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کا مقابلہ کرنا تنہا کسی پارٹی کے بس کی بات نہیں۔