موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ٹروڈو کی سکیورٹی ٹیم نے صدارتی سویٹ  میں وزیر اعظم کو ٹھہرانے سے انکار کر دیا تھا

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی سکیورٹی ٹیم نے ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس وقت گھبراہٹ میں ڈال دیا جب انہوں نے ٹروڈو کو صدارتی سویٹ میں جگہ دینے سے انکار کردیا جس کا خصوصی طور پر ہندوستانی سکیورٹی ٹیموں نے نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران اہتمام کیا تھا، اور اس کے بجائے انہوں نے ایک عام کمرے میں رہنے کا انتخاب کیا۔

انگریزی روزنامے ’ٹائمس آف انڈیا ‘ میں شائع خبر کے مطابق جی 20 سربراہی اجلاس کے لیے دہلی پہنچنے والے مختلف ممالک کے سربراہان کے لیے طے شدہ اصولوں کے مطابق، عالمی رہنماؤں کو ہوٹل کے مخصوص کمروں میں ٹھہرایا جانا تھا جس میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ کینیڈین وزیر اعظم ٹروڈو کے لیے، وسطی دہلی میں ہوٹل للت میں ایک انتہائی محفوظ کمرہ، جس میں بلٹ پروف شیشہ لگایا گیا تھا جو اسنائپر گولیوں کو روک سکتا تھاوہ الاٹ کیا تھا۔ تاہم، ان کی سیکورٹی ٹیم نے عام کمرےمیں رہنے کا انتخاب کیا، جس کی وجہ سے ہندوستانی سیکورٹی ٹیموں کے اندر آخری لمحات میں تناؤ پیدا ہوگیا ۔

جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور شامل تھے، ہندوستانی سیکورٹی ٹیموں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور ٹروڈو کو ایک عام کمرے میں رہنے کی اجازت دینا پڑی کیونکہ ان کی ٹیم نے جھکنے سے انکار کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کینیڈا کی ٹیم نے دونوں کمروں، صدارتی سویٹ اور عام کمرے کی ادائیگی کی پیشکش بھی کی جہاں وہ آخرکار ٹھہرے تھے۔

جی20سربراہی اجلاس کے بعد مزید ڈرامہ سامنے آیا۔ اگرچہ ٹروڈو کو جی20سربراہی اجلاس کے اختتام پر 10 ستمبر کو دہلی سے روانہ ہونا تھا، لیکن وہ اپنے طیارے میں تکنیکی مسئلے کی وجہ سے دو دن تک ہندوستان میں پھنسے رہے۔ اس کے بعد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکز نے کینیڈین وزیر اعظم کی واپسی کے لیے ایئر انڈیا کی خدمات کی پیشکش کی تھی لیکن کینیڈین حکومت نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور تقریباً چھ گھنٹے بعد ہندوستانی حکومت کو جواب دیتے ہوئے اپنے ہی طیارے کا انتظار کرنے کو ترجیح دی۔