موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کینیڈا اِدھر اُدھر کی باتیں نہ کرے، بلکہ نجر کے قتل پر ثبوت پیش کرے، ہندوستان کی دو ٹوک

نئی دہلی: خالصتان حامی ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے پر ہندوستان نے کینیڈا سے سختی سے کہا ہے کہ وہ ثبوت پیش کرے اور بغیر کسی وجہ کے الزامات نہ لگائے۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ کی رپورٹ کے مطابق بدھ (20 ستمبر) کو قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال نے نئی پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان بھی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد ہندوستان نے کینیڈا سے ثبوتوں کا مطالبہ کیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے ردعمل نے اس مطالبے کی شکل اختیار کر لی ہے کہ کینیڈا ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں پر لگائے گئے الزامات پر صفائی پیش کرے۔ دوسری طرف، اس نے اوٹاوا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہندوستان ثبوت کی بنیاد پر کینیڈا میں ہونے والی تحقیقات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔ تیسرا، ٹروڈو نے جس طرح اس معاملے میں ہندوستان کے اتحادیوں امریکہ اور آسٹریلیا سے اپیل کی، انہیں یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ الزامات بے بنیاد ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔

دراصل، کینیڈا میں ٹروڈو کی حکومت اقلیت میں ہے اور اسے نیو ڈیموکریٹک پارٹی آف خالصتان کے جگ میت سنگھ کی حمایت حاصل ہے۔ ہندوستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی منصوبے بنا رہا ہے کہ کینیڈا میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن سکھوں اور ہندوؤں کے درمیان کوئی پولرائزیشن نہ ہو اور کینیڈا میں رہنے والے ہندوستانی لوگ محفوظ رہیں۔

یاد رہے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے نجر کے قتل کا الزام ہندوستان پر عائد کیا تھا۔ ہندوستان پہلے ہی اس الزام کی تردید کر چکا ہے۔