موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ایئر انڈیا کو جھٹکا! ڈی جی سی اے نے فلائٹ سیفٹی چیف کی منظوری ایک مہینہ کے لیے معطل کر دیں

نئی دہلی: ٹاٹا گروپ کی ملکیت ایئر انڈیا کے لیے بری خبر ہے۔ ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے کچھ کوتاہیوں کی وجہ سے ایئر انڈیا کے فلائٹ سیفٹی چیف کو دی گئی منظوری کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کے حادثے سے بچاؤ کے پروٹوکول میں کچھ خامیاں پائیں، جس کے بعد اس کیریئر کے فلائٹ سیفٹی چیف کی منظوری کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا میں 26 اگست کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی دو رکنی معائنہ ٹیم نے ایئر انڈیا کی اندرونی حفاظت کے حوالے سے کیے گئے آڈٹ میں کئی خامیاں پائی ہیں اور اس کے بعد اس حوالے سے ایک ریگولیٹری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ جانکاری حکام کے حوالے سے دی گئی تھی۔

اس کے جواب میں، ایئر انڈیا کے ترجمان نے زور دے کر کہا تھا کہ تمام ایئر لائنز ریگولیٹرز اور بیرونی اداروں سے باقاعدگی سے حفاظتی آڈٹ کرواتی ہیں اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ڈی جی سی اے کی ٹیم نے 25 اور 26 جولائی کو ایئر انڈیا کا اندرونی آڈٹ، حادثے سے بچاؤ کے کام اور ضروری تکنیکی عملے کی دستیابی کے حوالے سے جائزہ لیا تھا۔

ڈی جی سی اے نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ جائزے میں ایئر انڈیا کے حادثات سے بچاؤ کے کام اور منظور شدہ فلائٹ سیفٹی مینوئل اور متعلقہ شہری ہوا بازی کی ضروریات کے مطابق تکنیکی عملے کی دستیابی میں خامیاں پائی گئی ہیں۔

ڈی جی سی اے کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایئر انڈیا میں پائی جانے والی خامیوں کی وجہ سے ایئر انڈیا کے فلائٹ سیفٹی چیف کو دی گئی منظوری کو ایک ماہ کے لیے روکا جا رہا ہے۔