موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر کے 46 لاکھ اموات ہونے سے روک سکتا ہے ہندوستان: ڈبلیو ایچ او

نئی دہلی: عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر کے 2040 تک 4.6 ملین اموات کو روک سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس کے دوران ہائی بلڈ پریشر کے تباہ کن عالمی اثرات پر اپنی پہلی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں 30-79 سال کی عمر کے 188.3 ملین بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ 50 فیصد کنٹرول کی شرح حاصل کرنے کے لیے، ہائی بلڈ پریشر والے 67 ملین سے زیادہ لوگوں کا مؤثر طریقے سے علاج کرنے کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق، ہائی بی پی کا مسئلہ کل 37 فیصد ہندوستانیوں میں پایا گیا ہے۔ 32 فیصد مرد اور 42 فیصد خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں۔ کل متاثرین میں سے صرف 30 فیصد ہی علاج کر پاتے ہیں۔ 35 فیصد خواتین اور 25 فیصد مرد اس علاج سے شفایاب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال صرف 15 فیصد لوگوں (19 فیصد خواتین اور 11 فیصد مرد) کا ہائی بلڈ پریشر کنٹرول میں ہے۔

بے قابو ہائی بی پی ہارٹ اٹیک، فالج اور ناگہانی موت کا سبب بنتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی 52 فیصد اموات کی وجہ ہائی بی پی ہو سکتی ہے۔

عالمی سطح پر، ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں تین میں سے ایک بالغ کو متاثر کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہر پانچ میں سے چار افراد کا مناسب علاج نہیں کیا جاتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ممالک کوریج میں اضافہ کریں تو 2023 سے 2050 کے درمیان 76 ملین اموات کو روکا جا سکتا ہے۔