موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

راکیش ٹکیت کا مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاج کا انتباہ

لکھنؤ: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ اگر کسانوں کے مطالبات بشمول آبپاشی کے لیے مفت بجلی اور گنے کے لیے اعلیٰ ایس اے پی کو پورا نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

راکیش ٹکیت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ لکھنؤ میں کسانوں کا حالیہ احتجاج اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کسی سیاسی ایجنڈے سے متاثر نہیں تھا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ جہاں حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں لاتعلق ہے وہیں اپوزیشن انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان میں ناراضگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر حکومت سے بے حد ناخوش ہیں۔ گنے کے کاشتکاروں کو ان کے واجبات وقت پر نہیں مل رہے۔ بی کے یو آنے والے دنوں میں ہر ضلع میں کسان احتجاج کرے گی۔

بی کے یو لیڈر نے غریب کسانوں کی قیمت پر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز پر بھی تنقید کی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی فائدے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مسئلہ کو حل نہیں کرنا چاہتی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی اپنے انتخابی منشور میں کسانوں سے کئے گئے وعدوں میں ناکام رہی ہے، چاہے وہ لوک سبھا ہو یا اسمبلی انتخابات۔