موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اسدالدین اویسی نے کی ’خاتون ریزرویشن بل‘ کی مخالفت، لیکن کیوں!

خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے چیف اسدالدین اویسی نے اس پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور خاتون ریزرویشن بل میں موجود خامیوں کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں اس بل کی مخالفت کر رہا ہوں۔ اس بل کو لے کر یہ دلیل دی گئی ہے کہ اس سے مزید خواتین پارلیمنٹ اور اسمبلی میں منتخب ہو کر آئیں گی۔ اس میں او بی سی اور مسلم خواتین کے لیے انتظام کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ ان کی نمائندگی پارلیمنٹ میں بہت کم ہے۔‘‘

حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ اویسی نے کہا کہ ملک میں 7 فیصد مسلم خواتین ہیں، لیکن اس ایوان میں ان کی نمائندگی صرف 0.7 فیصد ہی ہے۔ مسلم لڑکیوں کا ڈراپ آؤٹ 19 فیصد ہے، جبکہ دیگر طبقات میں یہ صرف 12 فیصد ہے۔ اتنا ہی نہیں، نصف مسلم خواتین ناخواندہ ہیں۔ اویسی نے بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت اعلیٰ ذات کی خواتین کی نمائندگی بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ مسلم اور او بی سی خواتین کی نمائندگی نہیں بڑھانا چاہتی۔ 17ویں لوک سبھا تک مجموعی طور پر 690 خاتون اراکین پارلیمنٹ منتخب کی گئیں۔ ان میں سے صرف 25 خواتین ہی مسلم طبقہ سے تھیں۔‘‘

اویسی نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وہ (حکومت) کہتے ہیں کہ ایوان میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی سہولت نہیں ہے۔ یہ صرف بڑے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لانا چاہتے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نہیں چاہتے۔ یہ بل پارلیمنٹ اور اسمبلی میں او بی سی اور مسلم خواتین کے لیے راستے بند کرتا ہے۔‘‘