موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’بدلنا ہے تو اب حالات بدلو، ایسے نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے؟‘، پارلیمنٹ میں کھڑگے کا پی ایم مودی پر طنز

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آغاز آج (پیر) سے ہو چکا ہے۔ اس دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ایک نظم سے کیا اور کہا کہ ’بدلنا ہے تو اب حالات بدلو، ایسے نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے؟‘ کھڑگے کے ذریعہ سنائی گئی پوری نظم اس طرح ہے:

بدلنا ہے تو اب حالات بدلو
ایسے نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے

دل کو تھوڑا بڑا کر کے دیکھو
لوگوں کو مارنے سے کیا ہوتا ہے؟

کچھ کر نہیں سکتے تو کرسی چھوڑ دو
بات بات پر ڈرانے سے کیا ہوتا ہے؟

اپنی حکمرانی پر تمھیں غرور ہے
لوگوں کو ڈرانے دھمکانے سے کیا ہوتا ہے؟

ملکارجن کھڑگے نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ 1950 میں جب ہم نے جمہوریت کو اختیار کیا، تو بہت سے غیر ملکی دانشوروں کو لگتا تھا کہ یہاں جمہوریت ناکام ہو جائے گی، کیونکہ یہاں کروڑوں انگوٹھا چھاپ لوگ ہیں۔ تب برطانوی وزیر اعظم چرچل نے یہاں تک کہا تھا کہ انگریز چلے گئے تو ان کے ذریعہ قائم عدلیہ، صحت خدمات، ریلوے اور تعمیرات عامہ کا پورا نظام ختم ہو جائے گا۔ اتنا کمتر سمجھا گیا ہم کو، کہا گیا یہ لوگ اَن پڑھ ہیں، انگوٹھا چھاپ ہیں، جمہوریت کو کیسے ٹکائیں گے، ہم نے ٹکا کر دکھایا۔ ہمیں بار بار ٹوکا جاتا ہے کہ 70 سال میں کیا کچھ کیا آپ نے، ہم نے 70 سال میں اس ملک کی جمہوریت کو مضبوط کیا… ہمارے نڈا صاحب ہمیں چھوٹا کرنے کے لیے انڈی بولتے ہیں، نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم ہیں انڈیا۔

کانگریس صدر نے پی ایم مودی کے خلاف حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اٹل جی نے اپنی مدت کار میں 21 بار بیان دیا ہے۔ منموہن سنگھ نے 30 مرتبہ بیان دیا۔ صرف ہمارے موجودہ وزیر اعظم ایسے ہیں جنھوں نے گزشتہ 9 سالوں میں روایتی بیانات کو چھوڑ کر صرف 2 بار بیان دیا ہے۔ یہ جمہوریت ہے؟ چیئرمین جی اس کو کیسے بہتر کرتے ہیں، میں آپ پر ہی چھوڑ دیتا ہوں۔

راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ نہرو جی کا ماننا تھا کہ مضبوط اپوزیشن کی غیر موجودگی کا مطلب ہے نظام میں اہم خامیاں ہیں۔ اگر مضبوط اپوزیشن نہیں ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اب جب ایک مضبوط اپوزیشن ہے تو ای ڈی، سی بی آئی کے ذریعہ سے اسے کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کیا جا رہا ہے… انھیں (اپنی پارٹی میں) لے جاؤ، انھیں واشنگ مشین میں ڈال دو اور جب وہ پوری طرح صاف ہو کر باہر آ جائیں تو انھیں (اپنی پارٹی میں) مستقل کر دو۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں کم ہی آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو اسے ایونٹ بنا کر چلے جاتے ہیں۔

ملکارجن کھڑگے نے اپنی تقریر میں منی پور ایشو پھر سے اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم اِدھر اُدھر جا رہے ہیں، لیکن وہ منی پور نہیں گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آخری سیشن میں بحث چاہتے ہیں۔ ایوان کے نائب سربراہ نے انھیں ٹوکا اور کہا کہ وہ بحث کے حق میں تھے، لیکن آپ نے (اپوزیشن) بحث کی اجازت نہیں دی۔ ہر ایشو پر باہر تقریر دینے کو لے کر کھڑگے نے پی ایم پر حملہ بولا۔

کھڑگے نے اپنے انداز میں کہا کہ مین رات کو دوڑتے دوڑتے یہاں پہنچا ہوں۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے سوچا تھا کہ آج کا دن بہت اچھا ہے۔ ہمارے چیئرمین صاحب (نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ) غصے میں نہیں رہیں گے اور کسی کو ڈرائیں گے نہیں۔ سبھی کو محبت سے لے کر ایک ساتھ چلیں گے۔ اسی امید کے ساتھ میں یہاں آیا تھا۔

کھڑگے نے کہا کہ آج کا دن خوشی کا دن ہے، ہمارے ساتھی سنجے سنگھ اور راگھو چڈھا کو ایوان میں لے کر آئیے، اگر خصوصی اجلاس کے پہلے دن دو اراکین کو باہر رکھنا ٹھیک نہیں لگتا۔ آپ بڑا دل دکھائیے، غصہ کم کر دیجیے۔