موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

پی ایم مودی نے آج طلب کی مرکزی کابینہ کی میٹنگ، خاتون ریزرویشن بل کو لے کر قیاس آرائیاں شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج شام مرکزی کابینہ کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے کچھ بلوں کو منظوری دی جا سکتی ہے۔ اس درمیان قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ بلوں کی فہرست میں خاتون ریزرویشن بل بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس پر اب تک حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے، لیکن ایسی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پی ایم مودی ایک بار پھر سے حیران کرنے والا فیصلہ سنا سکتے ہیں۔

دراصل سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ 27 سالوں سے اٹکے خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دلا کر ہی مودی حکومت انتخاب میں اترنا پسند کرے گی۔ اس کے ذریعہ بی جے پی کے لیے  نصف آبادی کو نمائندگی دینے کا کارڈ چلنا آسان ہو جائے گا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کانگریس نے بھی اپنی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں حکومت کے سامنے خاتون ریزرویشن بل لانے کا مطالبہ رکھ دیا ہے۔ سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے سے خاتون ریزرویشن بل کی تیاری میں ہے اور اس کی بھنک لگنے پر ہی کانگریس نے یہ مطالبہ اٹھایا ہے۔ ایسا اس لیے تاکہ بل پاس ہونے پر پورا کریڈٹ بی جے پی حکومت کو ہی نہ مل جائے۔

واضح رہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ طویل مدت سے اٹھتا رہا ہے، لیکن پاس نہیں ہو سکا۔ یو پی اے حکومت کے دور میں بھی یہ بل راجیہ سبھا سے تو پاس ہوا تھا، لیکن لوک سبھا میں اٹک گیا تھا۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی جیسی کچھ پارٹیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ خاتون ریزرویشن میں ذیلی کوٹہ بھی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خاتون کوٹہ میں او بی سی، ایس سی، ایس ٹی سماج کے لیے الگ سے ریزرویشن کا انتظام ہونا چاہیے۔ اسی ایشو پر یو پی اے حکومت میں بھی یہ بل اٹک گیا تھا۔