موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت پر کوشر اور حلال کا مشروط لیبل

لیبارٹری میں مصنوعی طریقے سے تیار کردہ گوشت پرکوشر اور حلال کا لیبل لگایا جا سکتا ہے۔ یہ رائے مصنوعی طریقے سے گوشت کی تیار کی نوزائیدہ صنعت کی جانب سے مقرر کیے گئے کمیشن کے دو پینلوں پر مشتمل ماہرین نے دی ہے۔ ان ماہرین کے مطابق کوشر اور ہلال کی سند اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب لیب میں تیار کردہ گوشت کے خلیوں کو مذہبی معیارات کے مطابق طریقوں سے اخذ کیا جائے۔

ماہرین کی اس رائے کو خلیوں سےگوشت تیار کرنے والی کمپنیوں کی فتح کے طور پر دیکھا جارہا ہےکیونکہ اس کا مطلب ہے کہ یہودیت اور اسلام کے ماننے والے پیروکار ایک دن یہ مصنوعات کھا سکتے ہیں۔

گُڈ میٹ نامی کمپنی کے سی ای او جوش ٹیٹرک نے کہا، ”یہ خلیوں کی مدد سےتیار شدہ گوشت کو ایک حقیقی حل بنانے کی طرف ایک اور قدم ہے۔” مصنوعی طور پر تیار کردہ گوشت فی الحال امریکہ اور سنگاپور میں صرف قلیل مقدار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ لیکن کمپنیوں کو امید ہے کہ نجی اور سرکاری سرمایہ کار پوری دنیا میں اس گوشت کی پیداوار بڑھانے اور خوراک کو تبدیل کرنے کے لیے اس شعبے کو کافی رقم فراہم کریں گے۔

یہ گوشت جانوروں کے خلیوں کے نمونوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جنہیں غذائیت کے لیے ملی جلی اشیاء سے بنتے ہیں اور انہیں اسٹیل کے برتنوں میں تیار کیا جاتا ہے، جس سے زمینی صنعتی کاشتکاری کے کاموں اور مذبح خانوں کی ضرورت سے گریز کیا جاتا ہے۔

اس نئی صنعت کی کمپنیاں امید کرتی ہیں کہ ان کی پراڈکٹ صرف ویگن ڈائٹ استعمال کرنے والوں اور سبزی خوروں کے ساتھ ساتھ آب و ہوا سے متعلق حساس مگر گوشت کھانے والوں کو بھی پسند آئے گی۔

گڈ میٹ نے شرعی ماہرین کا ایک پینل بلایا تھا، جس نے کمپنی کی پیداوار کا جائزہ لیا اور اتوار کو کہا کہ کاشت شدہ گوشت حلال ہو سکتا ہے اگر دیگر عوامل کے علاوہ، وہ خلیے جن سے گوشت بنایا جاتا ہے اسلامی قانون کے مطابق ذبح کیے گئے جانور سے لیے گئے ہوں۔ اگرچہ گڈ میٹ کمپنی کا تیار کردہ چکن فی الحال اس معیار پر پورا نہیں اترتا لیکن اس کمپنی کے مالک ٹیٹرک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ رائے صنعت کو حلال مصنوعات بنانے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔

کوشر سرٹیفیکیشن کی سب سے بڑی ایجنسی آرتھوڈوکس یونین (او یو) نے چھ ستمبر کو کہا کہ اسرائیلی کمپنی سپر میٹ کی طرف سے تیار کردہ کاشت شدہ چکن معیار پر پورا اترتا ہے کیونکہ چکن کے خلیوں کو جانوروں کے اجزاء نہیں کھلائے گئے ۔ کمپنی کے مالک ایدو سیور نے کہا کہ سپر میٹ اور او یو مل کر صنعت کے لیے وسیع تر رہنما خطوط پر کام کر رہے ہیں۔

حلال سرٹیفیکیشن ایجنسی او یو اور اسلامک سروسز آف امریکہ کے مطابق امریکہ میں 12 ملین سے زیادہ لوگ کوشر اور 8 ملین حلال مصنوعات کھاتے ہیں۔ ریگولیٹرز نے اس سال کے شروع میں کاشت شدہ چکن کو امریکی استعمال کے لیے کلئیرنس دی اور اس کے بعد سے اسے کچھ اعلیٰ درجے کے ریستوراں میں پیش کیا گیا ہے۔