موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نپاہ وائرس صرف کیرالہ میں ہی کیوں تباہی مچا رہا ہے

ملائیشیا میں 19 سال قبل نپاہ وائرس کا پتہ چلا تھا۔  یہ وائرس ہندوستان میں یہ وائرس  سال 2018 میں پایا گیا تھا۔ نپاہ وائرس سب سے پہلے کیرالہ میں پایا گیا تھا۔ تاہم 5 سال بعد کیرالہ میں ایک بار پھر نپاہ وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہے۔ اس سال 17 ستمبر تک ریاست میں نپاہ وائرس کے چھ معاملے سامنے آئے ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ نپاہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے نپاہ وائرس کے معاملات میں اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد کے درمیان ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ اس سال کیرالہ میں رپورٹ ہونے والے چھ معاملات میں سے دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

نپاہ وائرس سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ اس کا وائرل اسٹرین ہے۔ مثال کے طور پر، یہ اسٹرین اس وقت بنگلہ دیش میں پھیلا ہوا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شرح اموات 90 فیصد  ہے۔ کیرالہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں پایا جانے والا وائرس بنگلہ دیش میں پایا جانے والا اسٹرین ہے۔

نپاہ وائرس زونوٹک ہے (وہ بیماریاں جو جانوروں سے انسانوں میں پھیلتی ہیں)۔ ایسی صورتحال میں یہ وائرس چمگادڑوں سے پھلوں اور ان سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ 2019 کی ایک تحقیق کے مطابق، نپاہ وائرس چمگادڑوں سے پھلوں میں منتقل ہوا اور پھر وہ پھل کیرالہ کے تمام 14 اضلاع کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری تک پہنچ گئے۔

کیرالہ میں پچھلے پانچ سالوں میں نپاہ وائرس کے پھیلنے کی جو وجہ دیکھی گئی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نپاہ علاقے کے پھلوں کی چمگادڑوں کے لیے مقامی (کسی بھی بیماری کے لیے موزوں جگہ) بن چکا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ کیرالہ کا صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ ہوگا، جہاں نامعلوم بخار کی وجہ سے ہونے والی اموات کا پتہ چلا ہے۔