موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مدھیہ پردیش: ’ووٹر لسٹ میں گڑبڑی پائی گئی تو بی ایل او پر ہوگی کارروائی‘

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ ریاستی انتخابی افسر انوپم راجن نے یہاں تک انتباہ دیا ہے کہ اگر بے ضابطگی پائی جاتی ہے تو بی ایل او اور ای آر او کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف الیکٹورل آفیسر انوپم راجن نے کلکٹر اور ضلع الیکشن افسران کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کی اور اسمبلی انتخابات 2023 کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 4 اکتوبر کو کی جائے گی۔ اس کے بعد ووٹر لسٹ میں کسی مردہ یا ڈبل ​​انٹری والے ووٹر کا نام نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کسی بھی بی ایل او کی ووٹر لسٹ میں مردہ اور دوہرے درج شدہ ووٹرز پائے گئے تو متعلقہ بی ایل او، ای آر او کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی چیف الیکٹورل آفیسر راجن نے ووٹر لسٹ میں ناموں کو شامل کرنے، حذف کرنے اور ترمیم کرنے کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کو مقررہ وقت کے اندر حل کرنے کی ہدایت دی۔

بتایا گیا ہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کی دوسری خصوصی مختصر نظر ثانی 2023 کے تحت 2 اگست سے 11 ستمبر تک 42 لاکھ 75 ہزار 952 درخواستیں آن لائن اور آف لائن حاصل ہوئیں، جن میں ناموں کو شامل کرنے، حذف کرنے اور ان میں ترمیم کی درخواست کی گئی تھی، ان میں سے 29 لاکھ 46 ہزار 146 درخواستیں نمٹائی جا چکی ہیں۔ جبکہ 13 لاکھ 29 ہزار 806 درخواستیں زیر التوا ہیں، انہیں مقررہ مدت میں حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 4 اکتوبر کو کی جائے گی اور اس مدت کے دوران، ریاست کے تمام 64 ہزار 523 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی فہرستیں بی ایل اوز کی طرف سے دستیاب کرائی جائیں گی۔ اس دوران سیکٹر افسران بھی موجود رہیں گے۔ اس کے ساتھ تسلیم شدہ قومی سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔