موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وکلا کی ہڑتال کا اثر: ہاپوڑ کے اے ایس پی اور سی او کے تبادلے کے احکامات جاری

لکھنؤ۔ اتر پردیش کے ہاپوڑ میں وکلاء اور پولیس کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور سرکل آفیسر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مکیش چندر مشرا کو بریلی دیہات کا اے ایس پی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بریلی دیہات کے اے ایس پی راج کمار کو ہاپوڑ کا اے ایس پی بنایا گیا ہے۔

سی او اشوک کمار سسودیا کا سہارنپور تبادلہ کیا گیا ہے۔ کوتوالی انچارج ستیندر پرکاش سنگھ کا تبادلہ ضلع سے باہر کیا گیا ہے۔ پلاکھوا پولیس اسٹیشن میں تعینات انسپکٹر نیرج کمار کو کوتوالی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

قبل ازیں، ہاپوڑ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کے خلاف اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سمیت ریاست بھر میں جاری ہڑتال ختم ہو گئی۔ جمعرات کی شام اتر پردیش بار ایسوسی ایشن اور سرکاری عہدیداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حکومت نے پانچ نکاتی مطالبات پر اتفاق کیا۔

کونسل کے عہدیداروں اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان بات چیت ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ کونسل کے شریک چیئرمین پرشانت سنگھ اتل نے کہا کہ حکومت نے ہاپوڑ کے اے ایس پی کو ہٹانے، سی ای او اور پولیس انسپکٹر کو معطل کرنے اور ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کو لاگو کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا یقین دلایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 29 اگست کو پولیس نے ایک خاتون ایڈوکیٹ اور اس کے والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء پر مبینہ طور پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف ریاست کے وکلا 30 اگست سے ہڑتال پر تھے۔