موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وزیر اعظم مودی چھتیس گڑھ آئے اور جھوٹ بول کر چلے گئے: بھوپیش بگھیل

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل حیدرآباد کا دو روزہ دورہ کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ نوتشکیل شدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے حیدرآباد روانگی سے قبل میڈیا سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں جانکاری دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی ایم مودی اور بی جے پی پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ پی ایم مودی نے یہاں آکر جھوٹ بولا۔ انہوں نے رائے پور میں جھوٹ بولا کہ وہ چاول خریدتے ہیں جبکہ چاول چھتیس گڑھ حکومت خریدتی ہے۔

سی ایم بگھیل نے ’گئودھن نیائے یوجنا‘ کو لے کر بھگی پی ایم کو نشانہ بنایا۔ سی ایم بگھیل نے کہا، ’’مودی یہاں آئے اور جھوٹ بول کر چلے گئے۔ ہم نے 265 کروڑ روپے کا گوبر خریدا ہے اور وہ 1300 کروڑ روپے کا الزام لگا رہے ہیں۔ جبکہ پی ایم مودی نے کئی پلیٹ فارمز پر ہماری اسکیم کی تعریف کی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’نیتی آیوگ کی میٹنگ میں بھی ہمارے منصوبے کی تعریف کی گئی تھی۔ وہ صرف الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ یہ سب اڈانی کے لیے کرنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم جیسے باوقار عہدے پر بیٹھے ہیں اور جھوٹ بول کر چلے جائیں تو اس پر حیرت ہوتی ہے۔‘‘

سی ایم بھوپیش بگھیل نے کہا ’’بی جے پی کو چھتیس گڑھ اور چھتیس گڑھ کے لوگوں سے مسئلہ ہے۔ انہوں نے اپنے رتھ پر مجبوری میں چھتیس گڑھ مہتاری کی تصویر لگائی ہے لیکن جہاں سیڑھیاں چڑھتے ہیں وہاں کی تصویر لگائی ہے۔ عادت سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ چھتیس گڑھ کے لوگوں کو اپنے پیروں تلے روندتے رہے ہیں۔‘‘