موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

گجرات کے کھیڑا میں فرقہ وارانہ تصادم، تین ایف آئی آر درج، 11 افراد گرفتار

گاندھی نگر: گجرات کے کھیڑا ضلع کے ٹھاسرا میں ایک مندر سے نکالی جا رہی ’شیو یاترا‘ کے دوران تشدد کی آگ بھڑک اٹھی۔ پولیس نے دونوں فرقوں کے علاوہ کانسٹیبل کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی ہیں، جبکہ 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ’امر اجلالا‘ پورٹل پر شائع رپورٹ کے مطابق حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی فورسز کو طلب کیا گیا ہے اور ان کی شہر میں بڑی تعاد میں تعیناتی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس سپرنٹنڈنٹ گڑھیا نے بتایا کہ علاقہ میں قیام امن کی کوششوں کے تحت دونوں فرقوں کے لیڈران سے بات کی جا رہی ہے۔ واقعہ کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے اور اس کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پتھراؤ اور توڑ پھوڑ میں شامل لوگوں کی شناخت کر کے ان کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

’انڈیا ٹی وی‘ پورٹل کی رپورٹ کے مطابق کھیڑا کے ٹھاسرا میں ہونے والے تشدد کے سلسلہ میں اب تک تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ رپورٹ ہندو فرقہ کی جانب سے، ایک مسلم فرقہ کی جانب سے اور ایک پولیس کانسٹیبل کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔ جبکہ تاحال 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلمانوں نے جو ایف آئی درج کرائی ہے، اس کے مطابق یاترا میں شامل 1000 سے 1500 افراد نے ان کی املاک اور مذہبی مقامات پر حملہ کیا۔ ہندوؤں کی ایف آئی آر میں مسلم طبقہ کے 50 لوگوں کے ہجوم کی جانب سے پتھربازی کیے جانے الزام عائد کیا گیا ہے۔ جبکہ کانسٹیبل کی شکایت کی بنیاد پر 70 افراد کے خلاف ایف آئی درج کی گئی ہے۔