موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں 14 نکاتی قرارداد پاس، مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

کانگریس ورکنگ کمیٹی نے حیدر آباد میں ہفتہ کو شروع ہوئی اپنی دو روزہ میٹنگ کے پہلے دن 14 نکاتی قرارداد پاس کیا ہے۔ اس قرارداد کی شروعات جموں و کشمیر میں دہشت گردوں سے تصادم کے دوران شہیدوں ہوئے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوئی۔ بعد ازاں بطور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے ایک سال کی کارگزاریوں اور راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی تعریف کی گئی۔ قرارداد میں اپوزیشن اتحاد انڈیا کے اس عزم کو بھی دہرایا گیا کہ اس پیش قدمی کو نظریاتی اور انتخابی شکل میں کامیاب بنانے کے لیے کانگریس ملک کو توڑنے والی اور پولرائزیشن کی سیاست سے پاک کرنے، سماجی برابری اور انصاف میں یقین رکھنے والی طاقتوں کو مضبوط کرنے اور لوگوں کو ایک ذمہ دار، حساس، شفاف، جوابدہ اور ذمہ دار مرکزی حکومت دینے کے لیے متحد ہے۔ نیچے پیش ہیں 14 نکاتی قرارداد کے اہم حصے:

1. سب سے پہلے کانگریس ورکنگ کمیٹی جموں و کشمیر میں شہید ہوئے ہمارے بہادر فوجی افسران اور فوجی اہلکاروں کے کنبوں کے تئیں گہری ہمدردی ظاہر کرتی ہے۔ جب یہ افسوسناک خبر سامنے آ رہی تھی اور ملک غم منا رہا تھا تب بی جے پی اور وزیر اعظم کے ذریعہ خود کو جی-20 کی مبارکباد دینے کے لیے قومی راجدھانی میں جشن منانا نہ صرف بے شرمی کا عروج ہے بلکہ جوانوں کی شہادت کی بے عزتی بھی ہے۔

2. کانگریس ورکنگ کمیٹی گزشتہ ایک سال میں کانگریس صدر کی شکل میں اہم کارگزاریوں کے لیے ملکارجن کھڑگے جی کی تعریف کرتی ہے۔ وہ ایک قابل ترغیب لیڈر کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور خود مختاری کی مضبوط آواز رہے ہیں۔ وہ بے خوفی کے ساتھ مودی حکومت کے حملوں سے آئین کو بچانے کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ لگاتار وزیر اعظم کو ان کی عوام مخالف پالیسیوں اور پروگراموں کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔

3. کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) راہل گاندھی کی قیادت میں کنیاکماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ پر خوشی ظاہر کرتی ہے۔ یاترا ملک کی سیاست میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ جس کا مقصد ہندوستان کو توڑنے والی طاقتوں کے خلاف لوگوں کو متحد کرنا، بڑھتی نابرابری، گھٹتی آمدنی، بڑھتی بے روزگاری اور ضروری چیزوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے خلاف لوگوں کی آواز اٹھانا، اور بڑھتی تاناشاہی، جمہوری اداروں پر قبضے اور ہمارے وفاقی ڈھانچے پر ہو رہے حملوں کی مخالفت کرنا تھا۔

4. کانگریس ورکنگ کمیٹی منی پور میں آئینی نظام کے پوری طرح سے منہدم ہونے اور وہاں جاری تشدد پر گہرا افسوس ظاہر کرتی ہے۔ چار ماہ سے زیادہ وقت سے ریاست میں تشدد اور بدامنی کا دور جاری ہے۔ اتنے دنوں میں بی جے پی کی پولرائزیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے ریاست بری طرح سے تقسیم ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کی خاموشی اور نظر اندازی، وزیر داخلہ کی ناکامی اور وزیر اعلیٰ کے ضدی رویہ نے بے حد ہی خطرناک حالت پیدا کر دی ہے۔ جہاں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے درمیان اور فوج/آسام رائفلز اور ریاستی پولیس کے درمیان بار بار تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ منی پور سے جو چنگاری نکلی ہے، اب اس کے بڑے پیمانے پر شمال مشرقی علاقوں میں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ سی ڈبلیو سی وزیر اعلیٰ کو فوراً ہٹانے اور صدر راج لگانے کی کانگریس پارٹی کے مطالبہ کو دہراتی ہے۔ سی ڈبلیو سی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ حکومت لوٹے گئے اسلحوں اور گولہ بارود کو برآمد کرنے، پبلک آرڈر بحال کرنے، ہزاروں متاثرین اور ریاست کے پناہ گزینوں کے لیے اس بے حد سنگین انسانی بحران کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی مختلف گروپوں کے درمیان بات چیت کے لیے ایک خاکہ تیار ہو۔

5. کانگریس ورکنگ کمیٹی یاد دلانا چاہتی ہے کہ لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے موقع پر اپنی پہلی تقریر میں وزیر اعظم نے نسل پرستی، فرقہ پرستی اور علاقائیت پر 10 سال کے لیے روک لگانے کا عزم ظاہر کیا تھا، افسوس یہ ہے کہ بی جے پی اور اس حکومت کے ذریعہ اپنائی گئی تخریب کاری اور تفریق سے بھری پالیسیوں اور وزیر اعظم کے ذریعہ لوگوں کو متحد کرنے کی جگہ چنندہ معاملوں پر اپنی خاموشی کی وجہ سے گزشتہ 9 سالوں میں یہ تینوں ہی مسائل کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ ان کی حکومت نے غریبوں اور کمزور لوگوں، خصوصاً خواتین، اقلیتوں، دلتوں اور قبائلیوں پر مظالم کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بی جے پی لیڈروں کی سیاسی تقریر سماج میں زہر گھولنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے بیان نفرت پھیلانے والے اور تشدد کو فروغ دینے والے ہوتے ہیں۔ وہ تخریب کار قوتوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور سماج کا پولرائزیشن کرتے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈروں اور ترجمانوں نے گزشتہ وزرائے اعظموں، خصوصاً جواہر لال نہرو کے تعاون کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ان کی شبیہ کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی لیڈروں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف سیاسی بدلہ کے لیے جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

6. کانگریس ورکنگ کمیٹی مودی حکومت کو ایم ایس پی اور دیگر مطالبات کے ایشوز پر کسانوں اور کسان تنظیموں سے کیے گئے وعدوں کی یاد دلاتی ہے۔ کسان بڑھتے قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ زراعت اور دیہی معیشت گہرے بحران میں ہے۔ نوٹ بندی کی مار اور حکومت سے کسی بھی طرح کی حمایت نہ ملنے کے سبب ایم ایس ایم ای سب سے خراب دور میں ہیں۔ ایکسپورٹ مارکیٹ سکڑ گیا ہے اور ایکسپورٹ میں گراوٹ آئی ہے۔ سرمایہ کاری اور صارفیت کا انجن سست پڑا ہوا ہے۔ حکومت متعیشت کو از سر نو زندہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ معاشی منظرنامہ مایوس کن بنا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس حکومت کی واحد فکر صرف ہیڈلائن مینجمنٹ ہے۔

7. کانگریس ورکنگ کمیٹی بڑھتی بے روزگاری اور خاص طور سے ضروری سامانوں کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ پر سنگین فکر ظاہر کرتی ہے۔ وعدے کے مطابق ہر سال دو کروڑ ملازمت دینے میں ناکام رہنے کے بعد وزیر اعظم کا نام نہاد روزگار میلہ تماشہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ پورا عمل صرف اور صرف دھوکہ ہے۔ 2021 میں ہونے والے دس سالہ مردم شماری کروانے میں ناکام ہونا شرم کی بات ہے۔ اس کے سبب اندازاً 14 کروڑ ہندوستانیوں کو اپنے کھانے کے حق سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ 2011 کی مردم شماری کے حساب سے جاری راشن کارڈ پر ہی ابھی لوگ راشن لے پا رہے ہیں۔