موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

یوپی: لوک سبھا انتخاب سے قبل بی جے پی میں زبردست پھیر بدل، اچانک 69 ضلعی صدور تبدیل

لوک سبھا انتخاب میں اب چند ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اس سے قبل مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن پارٹیاں خود کو مضبوط بنانے کے لیے لگاتار کوششیں کر رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوشش عوام سے جڑنے کی ہو رہی ہے۔ اس درمیان اتر پردیش میں بی جے پی نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اتر پردیش بی جے پی نے تنظیمی سطح پر بڑے پھیر بدل کا اعلان کیا ہے۔

دراصل بی جے پی میں طویل مدت سے تنظیمی سطح پر رد و بدل کے لیے چہ می گوئیاں چل رہی تھیں، اور اچانک جمعہ کو اس سلسلے مین اعلان کر دیا گیا۔ بی جے پی نے تنظیمی سطح پر 98 ضلعوں میں نئے ضلعی صدور کی تقرری کی ہے جن میں 69 ضلعی صدور نئے ہیں۔ یعنی 29 پرانے ضلعی صدور پر ہی بی جے پی نے داؤ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا انتخاب کے مدنظر سماجی اور علاقائی توازن بناتے ہوئے یہ تقرریاں کی گئی ہیں۔ حالانکہ ضلعی صدور کی فہرست دیکھ کر اس بات کا ضرور پتہ چلتا ہے کہ اس میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے۔ محض 5 خواتین کو ہی ضلعی صدر بنایا گیا ہے۔

لوک سبھا انتخاب سے ٹھیک پہلے ہوئے اس تنظیمی پھیر بدل میں صاف طور پر انتخابی تیاری دیکھی جا سکتی ہے۔ پارٹی نے تنظیم میں سرگرم کردار نبھا رہے لیڈروں پر داؤ لگایا ہے۔ اس پھیر بدل میں سوشل انجینئرنگ کی جھلک بھی صاف دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پارٹی نے اس پھیر بدل میں نسلی اور سماجی ایکویشن پر نظر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کو عہدہ سے ہٹایا گیا ہے جن کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کچھ مہینے بعد ہونے جا رہے لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ تقسیم کے ایکویشن کو دیکھتے ہوئے بھی ان چہروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔