موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حکومت سے بات چیت کے بعد یوپی میں وکلاء کی ہڑتال ختم

لکھنؤ: اتر پردیش کی بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کے ساتھ کامیاب بات چیت کے بعد وکلاء کی ریاست گیر ہڑتال کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی 15 دن سے جاری احتجاج ختم ہو گیا ہے۔ 30 اگست کو پورے اترپردیش کے وکلاء نے ہاپوڑ میں وکلاء پر پولیس کے مبینہ لاٹھی چارج کے بعد ہڑتال شروع کر دی تھی۔

چیف سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احتجاج کے دوران وکلاء کے خلاف درج تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ اتر پردیش بار کونسل کے چیئرمین شیو کشور گوڑ نے کہا، ’’چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کے ساتھ بات چیت بہت مثبت رہی‘‘۔

گوڑ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وکالت کے تحفظ کے قوانین سے متعلق معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں حکومت اور بار کونسل دونوں کے نمائندے شامل ہوں گے اور اس طرح کے قانون کی تجویز کو مقررہ مدت میں پاس کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔

گوڑ نے کہا کہ ہاپوڑ میں قصوروار پولیس افسران کی معطلی اور تبادلے کا ان کا مطالبہ حکومت نے قبول کر لیا ہے۔ ہڑتال کو ختم کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "حکومت نے قصوروار پولیس افسران کی معطلی اور ہاپوڑ میں اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے کا ہمارا مطالبہ مان لیا ہے۔”

تاہم الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اشوک کمار سنگھ کو ہڑتال ختم ہونے کی خبر نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمعہ کی صبح ہونے والے اجلاس میں بار کونسل کی اس اپڈیٹ پر بات کریں گے اور پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔