موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

لیبیا میں سیلاب سے تباہی، ہلاک شدگان کی تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ!

طرابلس: شمالی افریقہ کے ملک مشرقی لیبیا میں ایک طاقتور طوفان کی وجہ سے آنے والی شدید بارش کے باعث سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6000 ہو گئی ہے، جبکہ سات ہزار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کےمطابق لیبیا میں سمندری طوفان کے بعد آنے والے سیلاب نے بربادی مچا دی، درنا شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ تباہی دیکھ کر اندازہ ہے کہ ہلاکتیں 20 ہزار سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔ شہر کے اندر اور ساحل پر لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ لیبیا کی حکومت نے سمندری طوفان کے بعد شمال مشرقی ساحلوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ عالمی تنظیموں سے امداد کی اپیل بھی کر دی۔

ایک رپورٹ کے مطابق شہر درنا کا چوتھائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے۔ طرابلس میں قائم ہنگامی خدمات کے ترجمان اسامہ علی نے کہا کہ ابھی تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے اور متاثرہ علاقوں سے 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

علی نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو بنیادی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اتوار کو مشرقی لیبیا سے ٹکرانے والے بحیرہ روم کے طوفان کی وجہ سے کئی علاقے سیلاب کی زد میں آ گئے تھے۔ اس سے جان و مال کو کافی نقصان پہنچا ہے۔