موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اتراکھنڈ کے 117 مدارس کے نصاب میں تبدیلی، سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی

دہرادون: اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اتراکھنڈ میں چل رہے وقف بورڈ کے مدارس میں بچوں کو عربی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مدارس کو جدید بنانے کی پہل کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی ای آر ٹی کے نصاب کو نافذ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اب ریاست کے 117 وقف بورڈ مدارس میں سنسکرت بھی پڑھائی جائے گی۔

شاداب شمس کے مطابق اس حوالے سے ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ نیز مدارس کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہوئے بچوں کے لیے ڈریس کوڈ بھی نافذ کیا جائے گا۔ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ ’دیوبھومی‘ کی سرزمین ہے اور یہاں رہنے والے مسلم کمیونٹی کے لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسے میں وقف بورڈ کے مدارس کی اپ گریڈیشن سے سبھی خوش ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے شاداب شمس نے کہا کہ ’’دیو بھومی اتراکھنڈ میں وقف بورڈ نے ایماندارانہ کوشش کی ہے۔ جس میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے 117 وقف بورڈ مدارس میں این سی ای آر ٹی کا نصاب لاگو کیا جائے گا۔ اس میں سنسکرت زبان کو بھی شامل کیا جائے گا۔ جب ہمارے بچے ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور عربی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سنسکرت بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’وزیراعلیٰ نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لیے کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ اب مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی ڈاکٹر اور انجینئر بن کر نکلیں گے۔ اب وہ بھی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے راستے پر چلیں گے اور ملک کی شان میں اضافہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ہم مثبت جذبات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘