موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

آسارام کو لگا جھٹکا، درخواست ضمانت پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

نئی دہلی: آسارام ​​کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 2013 میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے معاملے میں مجرم قرار دیے گئے خود ساختہ بابا آسارام ​​باپو کی درخواست ضمانت پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔

آسارام ​​کو 2013 میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس نے یہ جرم اگست 2013 میں جودھ پور کے منائی گاؤں میں کیا تھا۔ آسارام ​​کی گرفتاری کے بعد سورت کی دو خواتین نے بھی شکایت درج کروائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ آسارام ​​اور ان کے بیٹے نے ان کے ساتھ 2002 اور 2005 کے درمیان عصمت دری کی۔

جودھ پور ریپ کا فوجداری مقدمہ 2014 میں شروع ہوا اور چار سال تک چلا، اسے ٹرائل کورٹ نے 2018 میں مجرم قرار دیا اور عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے خلاف اس کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔