موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

خوشخبری! اگست میں خوردہ مہنگائی گھٹ کر 6.83 فیصد پر پہنچی

ملک میں بڑھتی مہنگائی کے درمیان ایک بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ اگست ماہ میں خوردہ مہنگائی گھٹی ہے جو عوام کے لیے راحت دینے والی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق سبزیوں و دیگر خوردنی اشیا کی قیمت گھٹنے کی وجہ سے خوردہ مہنگائی کی شرح اگست ماہ میں گھٹ کر 6.83 فیصد پر آ گئی ہے۔ حالانکہ اب بھی یہ آر بی آئی کے دائرے کے باہر ہے۔ آر بی آئی نے 24-2023 کے لیے خوردہ مہنگائی کے 5.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔

قومی شماریات دفتر (این ایس او) کی طرف سے منگل کو جاری آفیشیل اعداد و شمار کے مطابق صارفین پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی جولائی میں 7.44 فیصد تھی، جبکہ اگست 2022 میں یہ 7 فیصد تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں خوردنی اشیا کی مہنگائی گھٹ کر 9.94 فیصد رہی، جو کہ جولائی میں 11.51 فیصد تھی۔

اس درمیان ملک کا انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) جولائی ماہ میں 5.7 فیصد بڑھا ہے۔ این ایس او کی طرف سے منگل کے روز جاری اعداد و شمار کے مطابق آئی آئی پی کی بنیاد کی پیمائش کرنے والے انڈسٹریل پروڈکشن میں گزشتہ سال اسی ماہ میں 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا پروڈکشن جولائی 2023 میں 4.6 فیصد بڑھا ہے۔ دوسری طرف مائننگ پروڈکشن میں 10.7 فیصد اور بجلی پروڈکشن میں 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔