موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

گورنر بنگال کے آدھی رات کے پیغام کا معمہ ہنوز حل طلب

کولکاتا: مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس کی طرف سے ہفتہ کو نصف شب میں ریاست اور مرکزی حکومت کو بھیجے گئے خفیہ پیغامات کے مواد پر 14 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی معمہ حل طلب ہے۔ آدھی رات کے کچھ منٹوں کے اندر میڈیا والوں کو معلوماتی پیغام بھیجنے کی اطلاع دینے کے بعد راج بھون نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ریاستی سکریٹریٹ کے اہلکار بھی اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔

کئی وجوہات کی بناء پر پیغام کے ارد گرد کا معمہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے، یہ ریلیز ایسے وقت میں بھیجی گئی ہے جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود تھیں۔

دوسری بات، ہفتہ کی رات، اگرچہ راج بھون نے تصدیق کی کہ دو پیغامات میں سے ایک مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھیجا گیا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ مرکزی حکومت کے کس محکمے کو یہ پیغام بھیجا گیا ہے۔

ہفتہ کی دوپہر کو جب بوس سے ریاستی یونیورسٹی کے مسائل پر سیکرٹریٹ کے ساتھ ان کی حالیہ تنازعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو گورنر نے جواب دیا تھا ’’آج آدھی رات کا انتظار کریں۔”

ہفتہ کی شام چیف سکریٹری ایچ کے دویدی راج بھون گئے اور بوس کے ساتھ میٹنگ کی جو ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ میٹنگ کے بعد نہ تو گورنر اور نہ ہی چیف سکریٹری نے زیر بحث مسئلہ کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔