موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جی-20 کانفرنس میں ہندوستان، مغربی ایشیا، یورپ کے درمیان پورٹ کوریڈور بنانے کی پہل کا اعلان

جی-20 سربراہی اجلاس میں ہفتہ کے روز ہندوستان (جنوبی ایشیا)، مغربی ایشیا اور یورپ کی بندرگاہوں کو جوڑنے والے ریل روٹ نیٹ ورک پر مشتمل اقتصادی راہداری کی ترقی کا اعلان کیا گیا، جس میں امریکہ اور دوسرے پارٹنر ممالک مدد کریں گے۔

اس منصوبے کے تحت شریک ممالک نے بجلی، بحری کیبل، صاف توانائی اور انٹرنیٹ کی سہولیات کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس پہل کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے بڑی صلاحیت والی پہل قرار دیا ہے جو مشترکہ ترقی اور اختراع کی علامت بن سکتی ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اس بڑے منصوبے کو انڈیا-ویسٹ ایشیا-یورپ اکنامک کوریڈور کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور اسے خطے میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پہل کے متوازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور دیگر ممالک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو کمیونسٹ ملک کی طرف سے دوسرے ممالک پر مسلط کردہ مبہم منصوبے کے طور پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

بھارت نے اسے اپنی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس کے تحت تیار ہونے والی چین-پاکستان اقتصادی راہداری پاک مقبوضہ جموں و کشمیر سے گزر رہی ہے۔

امریکہ، ہندوستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے سرکردہ رہنماؤں نے ہندوستان، مغربی ایشیا-یورپ اقتصادی راہداری کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے لیے ایک مفاہمت نامے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مجوزہ کوریڈور سے ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کنیکٹویٹی میں اضافہ ہوگا اور دونوں براعظموں (ایشیا، یورپ) میں اقتصادی انضمام کے ذریعے اقتصادی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس سے دنیا میں صحت مند اور جامع اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔