موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سنگھ آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتا ہے، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور میں کہا کہ سماج میں موجود امتیازات کو دور کرنے کے لیے ریزرویشن بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سماجی نظام میں ہم نے اپنے ہی انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے ان کی پرواہ نہیں کی اور یہ تقریباً 2000 سال سے ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’جب تک ہم انہیں برابری فراہم نہیں کرتے، کچھ خاص اقدامات کرنے ہوں گے۔ اور میرا ماننا ہے کہ ان اقدامات میں سے ایک ریزرویشن ہے۔ ریزرویشن اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک کہ اس طرح کا امتیاز ہو۔ سنگھ آئین میں دیے گئے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘‘

موہن بھاگوت نے کہا کہ ریزرویشن نہ صرف مالی یا سیاسی مساوات کو یقینی بنانا ہے بلکہ عزت دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے کے کچھ طبقے جنہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے 2000 سالوں سے مسائل کا سامنا ہے تو پھر ہم (جن کو امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا) مزید 200 سال تک کچھ مسائل کا سامنا کیوں نہیں کر سکتے؟

خیال رہے کہ موہن بھاگوت نے کچھ دن پہلے خاندانی نظام پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا میں خاندانی نظام ختم ہو رہا ہے لیکن ہندوستان اس بحران سے بچ گیا ہے کیونکہ ‘سچائی’ اس کی بنیاد ہے۔ موہن بھاگوت نے ناگپور میں بزرگ شہریوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری ثقافت کی جڑیں سچائی پر مبنی ہیں، حالانکہ اس ثقافت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ دنیاوی لذتوں کی تکمیل کا رجحان بڑھ رہا ہے اور کچھ لوگوں کی طرف سے ثقافتی مارکسزم کے طور پر اپنے خودغرض فلسفے کے ذریعے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔