موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

تریپورہ: لیفٹ فرنٹ نے ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کیا

اگرتلہ: تریپورہ لیفٹ فرنٹ (ایل ایف) کمیٹی نے جمعرات کو سیپاہیجلا ضلع کے دھن پور اور باکس نگر کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے جمعہ کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔

کمیٹی نے دونوں سیٹوں پر 5 ستمبر کو ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا اور انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ بائیں بازو کے اہم اتحادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سکریٹری جتیندر چودھری نے الزام لگایا ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بدمعاشوں نے پولیس اور سول انتظامیہ کے ایک حصے کا استعمال کر کے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔

حلانکہ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کیانکار کرتے ہوئے اور مبصرین کی رپورٹوں کی بنیاد پر کہا کہ ضمنی انتخاب منصفانہ اور پرامن تھا، جس سے اپوزیشن ناراض تھی۔ حالانکہ اہم اپوزیشن پارٹیاں ٹی آئی پی آر اے موتھا اور کانگریس نے الیکشن نہیں لڑاتھا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا الیکشن میں دھاندلی کے الزام کے ساتھ قائم ہے۔

ایک بیان میں بائیں بازو کے کنوینر نارائن کر نے کہا کہ باکس نگر اور دھن پور کے ضمنی انتخابات میں پوری طرح سے دھاندلی ہوئی تھی اور پولنگ کے آغاز سے ہی اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی توجہ بار بار مبذول کرائی گئی تھی، لیکن دھاندلی روکنے کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا، ”چونکہ الیکشن کمیشن نے ویڈیو فوٹیج میں ووٹوں میں دھاندلی کی شکایات کو قبول نہیں کیا، اس لیے ہم نے دھاندلی شدہ ووٹوں کی گنتی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان حالات میں یہ بالکل واضح ہے کہ الیکشن کمیشن کا مقصد کیا ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے۔“

انہوں نے ریاست کے قبائلی بہبود کے وزیر وکاس دیو ورما کو گرفتارکرنے، سپاہیجلا ضلع میں ریٹرننگ افسران اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہٹانے اور ضمنی انتخابات کو منسوخ کرنے کے اپنے مطالبات کو دہرایا۔