موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بی آر ایس لیڈر کے. کویتا نے خاتون ریزرویشن کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے 47 سیاسی پارٹیوں کو لکھا خط

18 ستمبر سے 22 ستمبر تک چلنے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے، یہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم ہے۔ لیکن کچھ پارٹیاں اہم ایشوز پر بحث کرائے جانے کا مطالبہ لگاتار کر رہی ہیں۔ اس درمیان امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت نئی پارلیمنٹ میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دے کر نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے ایک تقریب میں خاتون ریزرویشن کی حمایت کر اس امکان کو روشن کر دیا ہے۔

اس درمیان بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) لیڈر کے. کویتا نے ملک کی 47 بڑی سیاسی پارٹیوں کو خط لکھ کر خاتون ریزرویشن کے معاملے پر حمایت کی گزارش کی ہے۔ اس خط کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں خاتون ریزرویشن کا بل لاتی ہے تو ایک بڑی سیاسی پارٹی کا ساتھ ملے گا۔ دوسری طرف اپوزیشن خیمہ میں خاتون ریزرویشن کے معاملے پر داخلی رسہ کشی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

بہرحال، کویتا نے سیاسی پارٹیوں کو جو خط بھیجا ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل پہلے ہی راجیہ سبھا سے پاس ہو چکا ہے جہاں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ لیکن پہلے سے ہی راجیہ سبھا میں پاس ہونے کے سبب اب اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ حکومت کے پاس لوک سبھا میں مضبوط اکثریت ہے، جہاں اسے اس بل کو پاس کرنے میں کوئی پریشانی سامنے نہیں آنے والی ہے۔ ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیوں کو اس بل کو پاس کرانے میں تعاون دینا چاہیے، جس سے خواتین کو ان کا حق مل سکے۔