موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہم پارلیمنٹ میں مودی چالیسہ کے لیے نہیں بیٹھیں گے، ہم اجلاس کے ایجنڈے کا مطالبہ کریں گے: کانگریس

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 ستمبر سے 22 ستمبر تک منعقد ہونے والا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کانگریس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ اس پارلیمانی اجلاس میں کانگریس اراکین پارلیمنٹ ’مودی چالیسہ‘ کے لیے نہیں بیٹھیں گے، بلکہ عوامی ایشوز پر بحث کا مطالبہ کریں گے۔

دراصل کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کی قیادت میں 5 ستمبر کو پارلیمانی اسٹریٹجک گروپ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈران جئے رام رمیش اور گورو گگوئی نے پریس کانفرنس کر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر پارلیمانی اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق ملک کو تاریکی میں رکھنے کا الزام لگایا۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس (کے ایجنڈے) کی جانکاری پہلے سے دی جاتی ہے، لیکن ہمیں اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ہم اجلاس میں حصہ لینا چاہتے ہیں، لیکن اس میں عوامی ایشوز پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم پی ایم مودی چالیسہ کے لیے نہیں بیٹھیں گے۔ کیا ہم وزیر اعظم کی تعریف و توصیف کرنے اور واہ واہی کے لیے ہیں؟ ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ پارلیمنٹ کے ایجنڈے کی جانکاری دی جائے۔ جیسا 5 اگست 2019 کو ہوا (آرٹیکل 370 ہٹانے کا فیصلہ) ویسا نہ ہو۔‘‘

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’اس اجلاس کے موضوعات سے متعلق ہمارے پاس کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ پارلیمنٹری بلیٹن میں جو کچھ چھپا ہے وہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ اس میں چھپا ہے- 18 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 19 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 20 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 21 تاریخ گورنمنٹ بزنس، 22 تاریخ گورنمنٹ بزنس۔ یہ کیا یکطرفہ توپ چلائی جا رہی ہے؟ ہمیں ایجنڈے کے بارے میں کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ کوئی صلاح و مشورہ نہیں، کوئی بات چیت نہیں، کوئی تبادلہ خیال نہیں۔‘‘