موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

یوپی میں گھوسی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری، سماج وادی پارٹی نے لگایا دھاندلی کا الزام

لکھنؤ: گھوسی اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ یہاں کل 430394 ووٹر دس امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، سماج وادی پارٹی نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔

سماج وادی پارٹی نے اپنے ایکس ہینڈل پر کہا ’’گھوسی اسمبلی ضمنی انتخاب میں انتظامیہ آدھار کارڈ کی جانچ کے نام پر اقلیتی اکثریت والے بوتھ نمبر 274، 275، 276 پر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے رہی‘‘

بی جے پی کے دارا سنگھ چوہان اور سماج وادی پارٹی کے سدھاکر سنگھ کے علاوہ عام جنتا دل سے راجکمار چوہان، جنتا کرانتی پارٹی سے مننی لال چوہان، جن راجیہ پارٹی سے سنیل چوہان، جن ادھیکار پارٹی سے افروز عالم، پیس پارٹی سے ثناء اللہ اعظمی، بہوجن مکتی پارٹی سے رویندر پرتاپ سنگھ، آزاد امیدوار ونے کمار اور رمیش پانڈے میدان میں ہیں۔

واضح رہے کہ پورے ملک کی نظریں گھوسی اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔ اس سیٹ پر 6 سال میں چوتھی بار الیکشن ہو رہے ہیں۔ گھوسی ضمنی انتخاب ایک ایسا انتخاب ثابت ہونے جا رہا ہے جو آنے والے 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کئی سوالوں کے جواب دے گا۔ یہاں سیدھا مقابلہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان ہے۔