جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو خطوں میں تقسیم کرنے سے متعلق 2019 کے مودی حکومت کے احکامات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں آج سماعت مکمل ہو گئی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے 5 ستمبر کو اس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی آئینی بنچ نے کہا کہ ’’بار کے سبھی اراکین کو شکریہ کی تجویز کے ساتھ ہم اس پر بحث ختم کرتے ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔‘‘ آرٹیکل 370 معاملے میں عرضی داخل کرنے والوں میں سے ایک نیشنل کانفرنس لیڈر جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے کہا کہ ہم عدالت میں رکھی گئی دلیلوں سے مطمئن ہیں۔ سبھی پہلوؤں پر بہتر انداز میں دلائل پیش کیے گئے۔
سبھی فریقین کی دلیلیں پوری ہو جانے اور بنچ کے ذریعہ سماعت مکمل ہونے کے بعد امید ہے کہ عدالت عظمیٰ جلد ہی اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جموں و کشمیر پر مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں 16 دنوں تک سماعت چلی۔ آئینی بنچ، جس میں سپریم کورٹ کے پانچ سینئر جج شامل تھے، نے 2 اگست سے اس معاملے پر سماعت شروع کی تھی۔
اس سے قبل مارچ 2020 میں اس معاملے کو سات ججوں کی بڑی بنچ کو سونپنے کے عرضی دہندگان کے مطالبے کو منظور کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا تھا۔ اُس وقت چیف جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے دلیل دی تھی کہ آرٹیکل 370 کی تشریح سے متعلق پریم ناتھ کول اور سمپت پرکاش معاملے میں عدالت عظمیٰ کے پہلے کے فیصلے ایک دوسرے سے متضاد نہیں تھے۔ سی جے آئی چندرچوڑ اور جسٹس کھنہ بنچ کے نئے رکن ہیں۔ جسٹس رمنا اور سبھاش ریڈی، جو گزشتہ بنچ کا حصہ تھے، سبکدوش ہو چکے ہیں۔

