موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وَن نیشن، وَن الیکشن کمیٹی کو لے کر وزیر اعظم دفتر سے رات 11 بجے آیا تھا فون! ادھیر رنجن چودھری کا انکشاف

’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب معاملے پر سیاسی گھمسان جاری ہے۔ مرکزی حکومت وَن نیشن، وَن الیکشن کے لیے راستہ ہموار کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن پارٹیاں اسے غیر آئینی ٹھہرا رہی ہیں۔ حکومت ہند کے ذریعہ وَن نیشن، وَن الیکشن کے لیے سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جس میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو بھی شامل کیا گیا تھا، حالانکہ انھوں نے خود کو اس کمیٹی سے کنارہ کر لیا ہے۔ اب ادھیر رنجن چودھری نے اس سلسلے میں کچھ اہم باتیں بتائی ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کا کہنا ہے کہ ’’31 اگست کی شب 11 بجے میرے سکریٹری کے پاس پی ایم او (وزیر اعظم دفتر) کے مشرا جی کا فون آیا۔ انھوں نے جانکاری دی کہ حکومت آپ کو ایک کمیٹی میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ میں اس سے حیران ہوا کیونکہ اتنی رات کو اس لیے کیوں فون آیا ہے۔ جب مشرا جی نے وَن نیشن، وَن الیکشن کی بات کی تب میں نے ان سے صاف کہا کہ پہلے سبھی ڈیٹیل بھیج دیجیے۔‘‘

ادھیر رنجن نے بتایا کہ انھوں نے صاف لفطوں میں فون پر کہا کہ جب تک مجھے جانکاری نہیں ہوگی، میں کیا بات کروں گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کیا وزیر قانون، پارلیمانی امور کے وزیر، وزیر داخلہ یا وزیر اعظم مجھ سے بات نہیں کر سکتے، ایک بابو کو مجھ سے بات کرنے کے لیے بھیج دیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کے پاس پیگاسس ہے، ای ڈی ہے اور سی بی آئی ہے۔ میں نے فون پر کیا کہا ہے اس کی جانچ کرا لیجیے، کچھ ہوا تو مجھے اور مشرا جی کو جیل میں ڈال دیجیے۔