موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مراٹھا ریزرویشن: جالنہ میں پولیس لاٹھی چارج کی کارروائی پر دیوندر فڑنویس کا اظہارِ افسوس، مانگی معافی

مہاراشٹر کے جالنہ میں تشدد کا معاملہ دھیرے دھیرے طول پکڑتا جا رہا ہے۔ تشدد کو لے کر پولیس کی طرف سے ابھی تک 350 سے زیادہ لوگوں پر کیس درج کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے جالنہ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تشار دوشی کو چھٹی پر بھیج دیا ہے اور ان کی جگہ شیلیش بلکواڑے کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ پیر کے روز اس پورے معاملے میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پریس کانفرنس کر پورے واقعہ سے متعلق جانکاری دی۔

فڑنویس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آج وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی ہے جس میں سنبھاجی راجے، اودین راجے اور مراٹھا تنظیموں کے نمائندے بھی شامل رہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے جالنہ میں پولیس کی طرف سے کیے گئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغنے کی کارروائی پر افسوس ظاہر کیا اور اسے بے حد افسوسناک بتایا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’میں مہاراشٹر حکومت کی گزشتہ مدت کار میں ریاست کا وزیر داخلہ تھا، مراٹھا تنظیموں کی طرف سے 2000 سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ میں جالنہ میں جو کچھ بھی ہوا اس کے لیے بطور وزیر داخلہ معافی مانگتا ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ واقعہ کو لے کر اب سیاست شروع ہو گئی ہے اور پورے معاملے پر سیاست کی روٹی سینکی جا رہی ہے۔

دیوندر فڑنویس کا کہنا ہے کہ جالنہ میں تشدد کو لے کر ریاستی حکومت کے خلاف ایک نریٹو سیٹ کیا جا رہا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاستی حکومت نے لاٹھی چارج کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی بھی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ اسے ایس پی سطح کے افسر دے سکتے ہیں۔