موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ایڈیٹرس گلڈ کے صحافیوں کے خلاف منی پور حکومت نے درج کروائی ایف آئی آر، جانیں کیا ہے پورا معاملہ؟

گزشتہ کئی مہینوں سے تشدد کی آگ میں جل رہے منی پور میں تشدد اور کشیدگی کے حالات پر رپورٹنگ کو لے کر منی پور حکومت نے ’ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا‘ کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ یہ ایف آئی آر تین صحافی پر ہوئی ہے۔ یہ تینوں ہی صحافی حالیہ نسلی تشدد کی میڈیا رپورٹس کو دیکھنے کے لیے منی پور گئے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ای جی آئی کی ٹیم کے ذریعہ پیش کی گئی رپورٹ ’جھوٹی، من گڑھت اور اسپانسرڈ‘ ہے۔

منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے کہا ہے کہ منی پور حکومت نے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کے اراکین کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ دراصل ان کے مطابق یہ منی پور ریاست میں اور زیادہ تصادم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امپھال واقع سماجی کارکن این شرت سنگھ نے 7 سے 10 اگست تک منی پور پہنچے تین صحافیوں سیما گوہا، سنجے کپور اور بھارت بھوشن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر میں ای جی آئی چیف کا بھی ملزم کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ای جی آئی (ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا) کی منی پور سے متعلق رپورٹ میں چراچندپور ضلع میں ایک جلتی ہوئی عمارت کی تصویر کے لیے ’کوکی ہاؤس‘ کی شکل میں کیپشن دیا گیا ہے۔ جبکہ عمارت محکمہ جنگلات کا ایک دفتر تھا جس میں 3 مئی کو ایک بھیڑ نے آگ لگا دی تھی۔

واضح رہے کہ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے ہفتہ کے روز جاری منی پور رپورٹ میں کہا کہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ نسلی تشدد کے دوران ریاست کی قیادت تفریق آمیز ہو گئی۔ رپورٹ میں اپنے نتائج مختصر میں ریاست کی قیادت پر کئی تبصرے کے درمیان کہا گیا ہے، اسے نسلی تشدد میں جانبداری سے بچنا چاہیے تھا، لیکن یہ ایک جمہوری حکومت کی شکل میں اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی، اسے پوری ریاست کی نمائندگی کرنی چاہیے تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریاست کی حکومت جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی شکل میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھا پائی ہے۔

حالانکہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ای جی آئی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی منی پور میں رپورٹ کو غلط مانا اور کہا کہ اس میں اصلاح کیا جا رہا ہے اور ایک ترمیم شدہ منی پور رپورٹ جلد ہی اَپلوڈ کی جائے گی۔ ای جی آئی نے لکھا ’’ہمیں پکچر ایڈٹنگ میں ہوئی خامی کے لیے افسوس ہے۔‘‘