موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بنگلہ دیش میں ڈینگی سے مزید 21 افراد ہلاک، اب تک 618 افراد کی موت

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 21 افراد کی موت ہوئی ہے اور اس کے ساتھ اس سال اب تک متعدی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 618 ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے مطابق اس عرصے کے دوران 2,352 مزید مریضوں کو وائرل بخار کے علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ نئے مریضوں میں سے 982 کو ڈھاکہ کے اسپتالوں میں اور باقی کو دارالحکومت سے باہر داخل کیا گیا ہے۔

ڈینگی کے کل 8,632 مریض جن میں دارالحکومت ڈھاکہ میں 3,903 شامل ہیں، اب ملک بھر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ڈی جی ایچ ایس نے اس سال اب تک ڈینگی کے 127,694 کیسز اور 118,444 ریکوری ریکارڈ کی ہیں۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بنگلہ دیش میں ڈینگی کے کیسز میں اضافے پر فوری کارروائی پر زور دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ "ڈینگی کے کیسز غیر معمولی بارشوں کے ساتھ ساتھ زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی کی وجہ سے ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے پورے بنگلہ دیش میں مچھروں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔”