موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ایک ملک، ایک انتخاب کا خیال مرکز اور اس کی تمام ریاستوں پر حملہ ہے: راہل گاندھی

نئی دہلی: مودی حکومت کی جانب سے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کو نافذ کرنے کے لئے قانونی پہلؤں پر غور کرنے اور عوامی رائے طلب کرنے کے لئے سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کانگریس اس معاملہ پر مرکزی حکومت پر حملہ آور ہے۔ پہلے ایم پی ادھیر رنجن چودھری نے کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کیا، پھر جئے رام رمیش نے اسے رسم پسندی قرار دیا اور اب راہل گاندھی نے کہا کہ یہ یونین آف انڈیا پر حملہ ہے۔

کمیٹی تشکیل دینے کے ایک دن بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک ملک، ایک انتخابت کے خیال کو یکسر مسترد کر دیا۔ راہل گاندھی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’’انڈیا یعنی بھارت ریاستوں کا مرکز ہے۔ ایک ملک، ایک انتخاب کا تصور مرکز اور اس کی تمام ریاستوں پر حملہ ہے۔‘‘

سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک ملک، ایک الیکشن کے امکان کو تلاش کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کو بھی شامل کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے شمولیت سے انکار کر دیا۔

ادھیر رنجن چودھری کے مطابق یہ کمیٹی آئینی طور پر درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ عملی اور منطقی نقطہ نظر سے بھی مناسب نہیں ہے۔ یہ کمیٹی بھی عام انتخابات کے قریب آنے پر بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو اس کمیٹی میں نہ رکھنا جمہوری نظام کی توہین ہے۔ اس صورت حال میں میرے پاس کمیٹی کا رکن بننے کی دعوت کو ٹھکرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔