موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہندوستان میں بدعنوانی، ذات پات، فرقہ پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی: پی ایم مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ہندوستان 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک ہوگا۔ انہوں نے کہا، ہماری قومی زندگی میں کرپشن، ذات پات اور فرقہ پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ دنیا کا جی ڈی پی مرکوز نظریہ اب انسانوں پر مرکوز نظریہ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ہندوستان اس عمل میں تیزی لانے کا کام کر رہا ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وشواس’، یہ عالمی فلاح و بہبود کے لیے بھی ایک رہنما اصول ہو سکتا ہے۔

ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں پانچ مقام چھلانگ لگانے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مستقبل قریب میں ہندوستان دنیا کی تین اعلیٰ معیشتوں میں شامل ہوگا۔ آج ہندوستانیوں کے پاس ترقی کی بنیاد رکھنے کا ایک بڑا موقع ہے جسے اگلے ایک ہزار سال تک یاد رکھا جائے گا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک ہندوستان کو ایک ارب بھوکے پیٹ والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اب یہ ایک ارب قابل ذہنوں اور دو ارب ہنر مند ہاتھ والا ملک ہے۔

کشمیر اور اروناچل پردیش میں جی-20 اجلاسوں کے انعقاد پر پاکستان اور چین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کے ہر حصے میں اجلاس منعقد کرنا ‘فطری’ ہے۔ پی ایم مودی نے کہا ’’دنیا نے جی-20 میں ہمارے الفاظ اور وژن کو صرف خیالات کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کے روڈ میپ کے طور پر دیکھا ہے۔‘‘

بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ’’سائبر جرائم سے لڑنے میں عالمی تعاون نہ صرف مطلوبہ بلکہ ناگزیر ہے۔ سائبر سیکٹر نے غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی جہت متعارف کرائی ہے۔ سائبر خطرات بہت زیادہ ہیں۔ سائبر دہشت گردی، آن لائن بنیاد پرستی، منی لانڈرنگ اس خطرے کی صرف ایک جھلک ہے۔ دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کو انجام دینے کے لیے ‘ڈارک نیٹ’، ‘میٹاورس’ اور ‘کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز’ کا استعمال کر رہے ہیں۔ مجرمانہ مقاصد کے لیے آئی سی ٹی کے استعمال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔