موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وزیراعلی کیجریوال کا تعلق عام گھر سے ہے اس لئے بی جے پی کو تکلیف ہو رہی ہے: بھگونت مان

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے آج ہریانہ کے بھیوانی میں عام آدمی پارٹی (عآپ)کے عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے  وزیر اعلی مان نے کہا کہ ہم عام گھروں سے ہیں اور سی ایم کیجریوال عام گھروں سے  وزیر اعلی  بنے ہیں، اس لیے انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔

بھگونت مان نے کہا کہ پارٹیاں آپ کو ساڑھے چار سال لوٹتی ہیں اور پھر 100 روپے کا شگون دے دیتئ  ہیں اور کہتی ہیں کہ جیتے رہو، جیتے رہو۔ پھر الیکشن آنے والے ہیں۔ تمہارے گھر کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے۔ بدلہ بھی لو۔ گھر کا دروازہ مت کھولنا۔ تم  کہہ دینا کہ آج ہم گھر پر نہیں ہیں۔ الیکشن کے بعد آئیں تاکہ ان کو پتہ چلے کہ گھر سے خالی ہاتھ جانا کتنا تکلیف دہ ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ‘انہوں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ پانچ سال تک آپ سے کچھ نہیں کہوں گا، میں آپ سے کچھ نہیں کہوں گا، آپ مجھے کچھ نہ کہنا۔ عوام کا کیا ہوگا؟ ہم عوام سے ہیں۔ ہم عام گھرانوں سے ہیں، اس لیے درد محسوس کر رہے ہیں کہ عام گھرانوں کے بچے کیسے وزیر اور وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ہمارے بچے اور بھتیجے وزیراعلیٰ بنتے ہیں۔ وہ بھیک مانگنے والا تھا، وزیراعلیٰ کیسے بن گیا؟ اروند کیجریوال نے یہ توڑ دیا ہے۔ اس بات کا انہیں دکھ ہے۔

بھگونت مان نے جلسہ عام میں پنجاب میں کرپشن کے خلاف شروع کی گئی پہل کا بھی ذکر کیا۔ سی ایم مان نے کہا کہ ‘پنجاب میں کرپشن کے خاتمے کے لیے ہم نے کرپشن کے خلاف تحریک شروع کی ہے اور ایک واٹس ایپ نمبر دیا ہے، اگر کوئی سرکاری ملازم آپ سے پیسے مانگے تو جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نہ نکالیں، بلکہ اپنا فون نکال کر ویڈیو بنائیں۔” ان کے خلاف کارروائی کرنا ہمارا کام ہے۔ اس وقت 400 لوگ جیل میں ہیں۔