موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’پی ایم مودی نہیں دیں گے اڈانی معاملے کی جانچ کا حکم‘، راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ سے مرکزی حکومت پر کیا حملہ

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز اڈانی گروپ کے اسٹاک ہیر پھیر سے متعلق الزامات کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ چھتیس گڑھ کی قیادت والی کانگریس حکومت کے ذریعہ منعقد ایک تقریب میں ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی اڈانی پر جانچ کا حکم نہیں دے سکتے، کیونکہ اگر ایسا ہوا اور سچائی سامنے آ گئی تو نقصان اڈانی کا نہیں بلکہ کسی اور کا ہوگا۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ملکی معیشت کی ریڑھ توڑ دی ہے۔ وہ چنندہ بزنس مین کے گروپ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی نے چھوٹے کاروباریوں کو برباد کر دیا ہے اور یہ وزیر اعظم مودی کے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ غریبوں کے لیے کام کرتی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ چاہے وہ چھتیس گڑھ، راجستھان، کرناٹک، ہماچل پردیش کی حکومتیں ہوں یا تلنگانہ اور مدھیہ پردیش کی آنے والی حکومتیں ہوں، وہ اڈانی کی حکومت ہونے کی جگہ غریبوں کی حکومت ہوں گی۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس کارکنان کو خطاب کرنے سے پہلے راہل گاندھی آج نوا رائے پور میں چھتیس گڑھ حکومت کے ذریعہ منعقد ’راجیو یوا متان سمیلن‘ میں شامل ہوئے تھے۔ بہرحال، چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخاب اس سال کے آخر میں پڑوسی ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ کے ساتھ ہونے والے ہیں۔