موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مودی حکومت کی نئی پہل: ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ زیرغور

مودی حکومت نے ایک روز قبل ہی 18سے 22 ستمبر کے درمیان پارلیمان کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا۔ اب ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ کے امکانات تلاش کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام کا اعلان کے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ مہینوں میں ہونے والے کئی اہم ریاستی انتخابات کے مد نظر مودی حکومت ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے اس خصوصی اجلاس کے دوران کچھ انتہائی اہم بل بھی منظور کراسکتی ہے۔

‘ایک ملک، ایک انتخاب’ سے مراد پورے ملک میں لوک سبھا (پارلیمنٹ) اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانا ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی مواقع پر اس موضوع پر بات کی ہے۔ یہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی کے انتخابی منشور کا حصہ بھی تھا۔

مودی نے 2016 میں بیک وقت انتخابات کی وکالت کی تھی اور 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے فوراً بعد انہوں نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے آل پارٹی میٹنگ بھی بلائی تھی۔ حالانکہ کئی اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو نظر انداز کر دیا تھا۔ وزیر اعظم مودی کی دلیل ہے کہ ہر چند ماہ بعد انتخابات کا انعقاد ملکی وسائل پر بوجھ ڈالتا ہے اور گورننس میں خلل کا سبب بنتا ہے۔

سابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو اس پر غور و خوض کرنے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنا اس سلسلے میں مودی حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ کووند نے بھی ماضی میں مودی کے اس نظریے کی تائید کی تھی۔ انہوں نے سن 2017 میں بھارتی صدر بننے کے بعد اس خیال کی حمایت کی تھی۔

مودی حکومت اپنی دوسری میعاد کے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا خیال ہے کہ اس معاملے کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہئے اور چونکہ اس موضوع پر برسوں سے بحث ہو رہی ہے اس لیے اب اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فیصلہ کن طورپر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "ایک ملک، ایک انتخاب” کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی اور پھر اسے ریاستی اسمبلیوں سے بھی منظور کرانا ہوگا۔

حالانکہ یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے اور 1952، 1957، 1962 اور 1967میں لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے۔ لیکن 1968-69 کے بعد بعض ریاستی اسمبیلوں کو مقررہ وقت سے پہلے تحلیل کردیے جانے کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔

کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا، "انہیں یہ بل لانے دیجئے، لڑائی جاری رہے گی۔” کانگریس کے ایک دیگر سینیئر رہنما ادھیر رنجن چودھری کا کہنا تھا، "ایک ملک، ایک انتخاب کے سلسلے میں مودی حکومت کی نیت صاف نہیں ہے، ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ "

بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ کا کہنا تھا کہ دراصل ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو ایک قوم اور ایک پارٹی کا جنو ن ہے اور اپوزیشن کے متحد ہونے کے بعد سے وہ کافی پریشان ہے۔

ڈی راجہ کا کہنا تھا، "ایک ملک، ایک الیکشن کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس پر کئی سالوں سے بحث ہو رہی ہے۔ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اسے’ ایک قوم، ایک ثقافت’، ‘ایک قوم، ایک مذہب’، ‘ایک قوم، ایک زبان’ کا جنون سوارہے۔’ ایک ملک، ایک ٹیکس؛ اب ایک ملک، ایک انتخاب؛ پھر ایک قوم، ایک پارٹی؛ ایک قوم، ایک لیڈر۔ یہی وہ جنون ہے جس میں بی جے پی مبتلا ہے۔”