موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

آپریشن لوٹس کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہے؟ کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے کا سوال

بنگلورو: بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل سنتوش کے اس دعویٰ پر کہ کانگریس کے 40 سے 45 ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں اور وہ ایک دن میں آپریشن لوٹس چلا سکتے ہیں، ریاستی وزیر پریانک کھڑگے نے ہفتہ کو کو سوال کیا کہ بی جے پی کے پاس اس طرح کی کارروائی انجام دینے کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہے؟

کانگریس لیڈر نے کہا کہ کھلے عام جھوٹ پھیلانے سے پہلے سنتوش کو اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی سے رابطہ قائم کرنے اور ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کرناٹک کانگریس نے جمعہ کو سنتوش کے دعوے کو ‘صدی کا مذاق’ قرار دیا تھا۔ پریانک کھڑگے نے کہا ’’میں انہیں ایک ماہ کا وقت دوں گا۔ انہیں 45 میں سے کم از کم چار ارکان اسمبلی کو نکالنے دیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رضاکاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں لیکن، وہ بی جے پی کے دفتر جاتے ہیں اور بی جے پی لیڈروں کی تبلیغ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’آپ کے اپنے ایم ایل اے کہہ رہے ہیں کہ لنگایت برادری کے لیڈروں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ریاستی بی جے پی میں سنتوش دھڑے کی وجہ سے لنگایتوں کو الگ کر دیا گیا تھا لیکن حکمت عملی ناکام رہی۔ پہلے سنتوش کو ان الزامات کا جواب دینے دیں، بعد میں وہ کانگریس پارٹی کے بارے میں بات کریں۔‘‘

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں بی جے پی کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ میں بات کرتے ہوئے سنتوش نے کہا تھا کہ وہ ایک دن میں ’آپریشن لوٹس (اپوزیشن ارکان اسمبلی کو توڑنا اور حکومت سازی کرنا‘ انجام دے سکتے ہیں کیونکہ کانگریس لیڈر ان کے رابطے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا ’’ہم ابھی ایسا نہیں چاہتے۔ ہم حکومت سازی کی کوئی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔‘‘

سنتوش نے مزید کہا کہ بی جے پی کا کوئی لیڈر کانگریس میں شامل نہیں ہو رہا ہے۔ فرض کریں اگر 10 لیڈر ہماری پارٹی چھوڑ دیں تو ہم ہمیشہ ایسے لیڈر لا سکتے ہیں جو ان کے برابر صلاحیت والے ہوں۔ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ پارٹی 2013 میں ختم ہو جائے گی لیکن اندرونی لڑائی کے باوجود ہم نے 40 سیٹیں جیت لیں۔ سال 2023 میں ہم نے 60 سیٹیں جیتیں، ہم اپوزیشن پارٹی کے طور پر زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔