موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مشن سورج: آدتیہ ایل 1 کی لانچنگ میں اب چند گھنٹے باقی، سفر میں ایل پی ایس سی سسٹم نبھائے گا اہم کردار

ایک طرف چندریان-3 چاند کی سطح پر اپنا نصف سے زیادہ سفر ختم کر چکا ہے اور اس دوران کئی طرح کی اہم جانکاریاں بھی بھیجی ہیں، اور دوسری طرف ’آدتیہ ایل 1‘ اپنے سفر کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کی لانچنگ میں کچھ ہی گھنٹے بچے ہیں۔ ہفتہ یعنی 2 ستمبر کی صبح تقریباً 11.50 بجے اِسرو کا مشن سورج لانچ کیا جائے گا۔ لانچنگ کی تقریباً سبھی تیاریاں پوری ہو چکی ہیں۔ جب ملک کا پہلا سورج مشن اپنے قابل اعتبار پی ایس ایل وی پر سوار ہو کر سورج کی طرف اپنے سفر پر شری ہری کوٹا سے روانہ ہوگا تو اِسرو کی ایک اور شاخ کے ذریعہ تیار لیکوئڈ پروپلشن سسٹم آدتیہ ایل 1 مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھائے گا۔ لیکوئڈ اپوجی موٹر انجن کا استعمال مدار میں سیٹلائٹس وغیرہ کو نصب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

دراصل لیکوئڈ پروپلشن سسٹم سنٹر (ایل پی ایس سی) اِسرو کے لانچنگ طیارہ کے لیے لیکوئڈ پروپلشن مراحل کے ڈیزائن، ڈیولپمنٹ اور ریلائزیشن کا سنٹر ہے۔ لیکوئڈ کنٹرول والو، ٹرانسڈیوسر، ویکیوم کنڈیشنز کے لیے پروپیلنٹ مینجمنٹ سسٹم اور لیکوئڈ پروپلشن سسٹم کے دیگر اہم اجزاء کا ڈیولپمنٹ بھی اس سنٹر کے دائرے میں ہے۔ ایل پی ایس سی کی سرگرمیاں اور سہولیات اس کے دو احاطوں یعنی ایل پی ایس سی، ولیامالا، تروونت پورم اور ایل پی ایس سی، بنگلورو، کرناٹک میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایل پی ایس سی کے ذریعہ تیار لیکوئڈ اپوجی موٹر ہندوستان کی اہم خلائی حصولیابیوں میں سیٹلائٹ/خلائی طیارہ پروپیلنٹ اہم رہا ہے۔ اس نے تین چندریان اور 2014 میں مریخ مشن میں اہم کردار نبھایا تھا۔ ایل پی ایس سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اے کے اشرف نے بتایا کہ اب ہم آدتیہ ایل 1 مشن- آدتیہ خلائی طیارہ میں بھی ایک بڑا کردار نبھاتے ہیں۔ جس میں ایل اے ایم (لیکوئڈ اپوجی موٹر) نامی ایک بہت ہی دلچسپ، کثیر جہتی تھرسٹر ہے، جو 440 نیوٹن کا تھرسٹ فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایل اے ایم آدتیہ خلائی طیارہ کو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور واقع لینگریجین مدار میں نصب کرنے میں معاون ہوگا۔