کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی میٹنگ کے دوران ساتھی پارٹیوں کے لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے کچھ مہینوں میں بدلے کی کارروائیوں، چھاپہ ماری و گرفتاری کے لیے تیار رہیں کیونکہ یہ اتحاد زمین پر جتنا مضبوط ہوگا، حکومت اس کے خلاف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کا اتنا ہی زیادہ غلط استعمال کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کی بڑھتی طاقت سے حکومت پریشان ہے۔ انھوں نے ملک میں ہیٹ کرائمز میں اضافہ کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس پر بھی نشانہ سادھا۔ اس کے ساتھ ریاستوں کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام لگایا۔
میٹنگ کے دوسرے دن انڈیا بلاک کے لیڈران کو خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ پٹنہ اور بنگلورو میں ہماری دونوں میٹنگوں کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں میں نہ صرف ہم پر حملہ بولا ہے، ہمارے پیارے ملک کے نام کا موازنہ دہشت گرد تنظیم اور غلامی کی علامت سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے بدلے کی سیاست کے سبب آنے والے مہینوں میں اور زیادہ حملوں، زیادہ چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
کانگریس صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جتنا زیادہ اِنڈیا اتحاد مضبوط ہوگا، اتنا ہی زیادہ بی جے پی حکومت اپوزیشن لیڈران کے خلاف ایجنسیوں کا غلط استعمال کرے گی۔ انھوں نے مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال میں مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں اور جھارکھنڈ کے ساتھ چھتیس گڑھ میں حال کے واقعات کی بھی مثال دی۔ کھڑگے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے سماج کا ہر طبقہ، چاہے وہ کسان، نوجوان، خواتین، حاشیے پر رہنے والے لوگ، متوسط لوگ، دانشور، غیر سرکاری ادارہ اور صحافی ہو، سبھی بی جے پی کے اقتدار پرست کُشاسن (بدتر حکمرانی) کے شکار ہیں۔ ہماری طرف 140 کروڑ ہندوستانی اپنی تکلیفوں کو دور کرنے کی امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس نے گزشتہ 9 سالوں میں جو فرقہ واریت کا زہر پھیلایا ہے، وہ اب بے قصور ٹرین مسافروں اور بے قصور اسکولی بچوں کے خلاف ہیٹ کرائمز کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ جب ملک کے ایک حصے میں خوفناک عصمت دری میں شامل لوگوں کو رِہا کیا جاتا ہے اور ان کا استقبال کیا جاتا ہے، تو دوسرے حصے میں خوفناک جرائم اور برہنہ خواتین کی پریڈ کو فروغ ملتا ہے۔ مودی جی کے ہندوستان میں کارگل جنگ کے ایک بہادر کی بیوی کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے۔‘‘
کانگریس صدر دراصل ٹرین میں آر پی ایف کانسٹیبل کے ذریعہ چار لوگوں کو قتل کیے جانے، منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ، اور بلقیس بانو عصمت دری کے ملزم کی رِہائی کا ذکر کر رہے تھے۔ انھوں نے مدھیہ پردیش کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ حاشیے پر پڑے لوگوں کے تئیں بی جے پی حکومت کی بے حسی ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیڈر غریب قبائلیوں اور دلتوں پر پیشاب کرتے ہیں۔ قصورواروں کو کھلے عام گھومنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘
مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت والی مرکزی حکومت ریاستوں کو کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاستوں کو ٹیکس ریونیو کے ان کے حصے سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن حکمراں ریاستوں کو منریگا کا بقایہ نہیں دیا جا رہا۔ مالیاتی کمیشن کی سفارش کے مطابق اسپیشل گرانٹ اور اسٹیٹ اسپیشل گرانٹ جاری نہیں کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری اور پروجیکٹس کے لیے اپوزیشن حکمراں ریاستوں کی جگہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لے جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
کھڑگے نے سوال کیا کہ راہل گاندھی نے ماریشس واقع کمپنی سے راؤنڈ ٹریپنگ کے الزامات اور غیر شفاف سرمایہ کاری کی رپورٹ کی جے پی سی جانچ کا مطالبہ کیا۔ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ وزیر اعظم اس معاملے (اڈانی کیس) کی جانچ کیوں نہیں کرا رہے ہیں؟ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ایجنسیوں اور اداروں پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ وہ ای ڈی چیف، سی بی آئی ڈائریکٹر، چیف الیکشن کمشنرز، یہاں تک کہ ملک بھر کی عدالتوں کے ججوں کی تقرری کو کنٹرول کرنے پر بضد ہے۔ کھڑگے کے مطابق تین میٹنگوں کے دوران انڈیا اتحاد نے ایک مشترکہ محاذ کی شکل میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ حکومت کو کامیابی کے ساتھ جوابدہ بنایا ہے۔ ہماری طاقت حکومت کو پریشان کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پارلیمنٹ میں اہم بلوں کو آگے بڑھایا ہے، ہمارے اراکین پارلیمنٹ کو معمولی بات پر معطل کر دیا ہے۔ ہمارے خلاف خصوصی استحقاق کا قرارداد داخل کیا، ہمارے مائک بند کر دیے، کیمروں کو ہمارے احتجاجی مظاہروں کو کور کرنے کی اجازت نہیں دی، سنسد ٹی وی پر ہماری تقریروں کو کھلے عام سنسر کر دیا۔

